The news is by your side.

ڈیمنشیا سے متعلق ملی محققین کو اہم کامیابی

ڈیمنشیا کا تعلق غذا سے نہیں، بلکہ طرز زندگی سے ہے، دو دہائی سے جاری تحقیق نے ثابت کردیا۔

رنل آف نیورولوجی میں شائع رپورٹ کے مطابق اس بیماری سے متعلق بیس برس کی تحقیق کے لئے 28 ہزار افراد پر تجربہ کیا گیا، تحقیق میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ تجربے میں شامل شرکاء 1923 سے 1950 کے درمیان ہی پیدا ہوئے ہوں یا ان کی عمر 58 کے آس پاس ہو۔

اور انہیں صحت کے حوالے سے کسی قسم کے مسائل جیسے ذیابطیس، بلڈ پریشر وغیرہ کا سامنا نہ ہو، شرکا میں سے کسی کو عمر کے کسی حصے میں صحت کے مسائل کا سامنا ہوتا تو انہیں تحقیق سے نکال دیا جاتا۔

تحقیق کے اختتام پر صرف 2 ہزار شرکا (6.9 فیصد) افراد ڈیمنشیا میں مبتلا ہوئے جبکہ دیگر میں ڈیمنشیا کی تشخیص نہیں ہوئی۔

کسی بھی قسم کے کوئی صحت کے حوالے سے مسائل ، جیسے ذیابطیس، بلڈ پریشر وغیرہ کا سامنا نہ ہو، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈیمنشیا کا خوراک سے باضابطہ تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھتی عمر میں خراب یادداشت کے مسئلے سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

یونیورسٹی آف باسل سے وابستہ محققین کہتے ہیں کہ ڈیمینشیا کی نشوونما میں ممکنہ طور پر خوراک کا براہ راست تعلق نہ ہو لیکن یہ متعدد عوامل، جیسا کہ تمباکو یا شراب نوشی، غیر صحت بخش غذا کا استعمال میں سے ایک ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ مختلف طرز زندگی اور عادات ڈیمینشیا کی نشوونما پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

محققین نے مذکورہ تحقیق کو حتمی قرار نہیں دیا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس تحقیق میں کوئی ایسا لنک ہو جس کی شناخت نہیں کی گئی، مثال کے طور پر، کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ چاہئے شرکاء کو ذیابطیس نہ ہو لیکن طویل مدت تک کاربوہائیڈریٹ یا چینی کا زیادہ استعمال تحقیقی مطالعے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں