The news is by your side.

Advertisement

ویانا کنونشن جاسوسوں اور دہشت گردوں پر لاگو نہیں ہوتا: ایڈ ہاک جج کا اختلافی نوٹ

اسلام آباد: بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کے فیصلے پر پاکستان کے ایڈ ہاک جج نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ویانا کنونشن جاسوسوں اور دہشت گردوں پر لاگو نہیں ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کی ہے لیکن کہا ہے اگرچہ کلبھوشن پر جاسوسی کا الزام ہے، تاہم ویانا کنونشن لاگو ہوگا، یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔

عالمی عدالت کے قونصلر رسائی کے فیصلے پر پاکستان کی طرف سے ایڈ ہاک جج جسٹس تصدق جیلانی نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا۔

سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی نے لکھا کہ ویانا کنونشن جاسوسوں اور دہشت گردوں پر لاگو نہیں ہوتا، بھارت نے ریلیف کے لیے کنونشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی عدالت انصاف: کلبھوشن یادو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

ایڈ ہاک جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ بھارتی درخواست قابلِ سماعت قرار نہیں دینی چاہیے تھی۔

دریں اثنا، پاکستانی وکیل خاور قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کلبھوشن کی رہائی چاہتا تھا جو عالمی عدالت نے نہیں دی، عالمی عدالت میں پاکستان کے مؤقف کی فتح ہوئی۔ اٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت نے واضح کر دیا کلبھوشن یادیو رِہا نہیں ہوگا، کلبھوشن کی رہائی مسترد ہونا پاکستان کی واضح فتح ہے۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا ہے، عالمی عدالت نے کہا کہ وہ اس پاسپورٹ پر 17 بار بھارت سے باہر گیا او رواپس آیا۔

عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمانڈر کلبھوشن پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا، کلبھوشن پر جاسوسی کا الزام اپنی جگہ مگر ویانا کنونشن لاگو ہوگا، پاکستان کلبھوشن کی پھانسی کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

عدالت نے کلبھوشن کے خلاف پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کی بھارتی استدعا بھی مسترد کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں