تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں بھی انتخابات کیلیے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر

پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا میں بھی عام انتخابات...

’عدالتی اصلاحات بل پر کیا فیصلہ کروں گا یہ کہنا قبل ازوقت ہے‘

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عدالتی...

قومی اسمبلی میں‌ عدالتی اصلاحات کا بل منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات پر مشتمل...

ڈیجیٹل مردم شماری، آگاہی کی ضرورت ہے

ملک میں ساتویں جبکہ ڈیجیٹل بنیادوں پر پہلی بار ہونے والی مردم شماری کا آغاز ہوچکا ہے تاہم حسب سابق اس پر بھی سیاسی اختلافات سامنے آنے لگے ہیں اس کے علاوہ ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے مؤثر آگاہی مہم نہ ہونے سے بھی گلی گلی جا کر کوائف اور معلومات اکٹھا کرنے والے ملازمین کو بھی متعدد مشکلات درپیش ہیں۔

پاکستان کے آئین کے مطابق ملک میں ہر دس سال بعد مردم شماری کرانا لازمی ہے، گزشتہ سال 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج متنازع قرار دیے گئے تھے جس پر سی سی آئی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ سال دو ہزار بائیس میں مردم شماری کا انعقاد کیا جائے گا جو کہ ڈیجیٹل ہوگی، ملک بھر میں ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے 34 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (بی پی ایس) کی جانب سے ایک پورٹل بھی متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنے اہل خانہ کا اندراج کیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق خود شماری کے تحت تقریباً 80 لاکھ خاندان رجسٹرڈ ہوئے، اور یہ خود شماری کا ڈیٹا متعلقہ مردم شماری کے عملے کے ٹیبلٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری دو حصوں پر کی جارہی ہے، پہلے مرحلے میں لسٹنگ (خانہ شماری) کا عمل مکمل کیا گیا اس مرحلے میں گھروں، دکانوں، گوداموں اور کارخانوں کو بھی شمار کیا گیا ہے۔

یہ اندراج ٹیبلٹس سے کیا جارہا ہے جو مرکزی ڈیجیٹل نظام سے منسلک ہیں۔ شمار کنندگان کے ٹیبلٹس میں ان کے بلاک گراف کی صورت میں موجود ہیں جن کو جی پی ایس سے منسلک رکھا گیا ہے۔ ہر بلاک 200 سے 250 گھروں پر مشتمل ہے۔

اب انمریشن ( شہریوں کے کوائف) جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو کہ چار اپریل تک جاری رہے گا۔

ڈیجیٹل مردم شماری اور عملے کے مسائل :
اگر صرف شہر قائد کی بات کی جائے تو کراچی میں ڈیجیٹل مردم شماری کے عملے کو ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا ہے، رپورٹ کے مطابق پورے کراچی میں 1290 ٹیمیں کام کررہی ہیں، مردم شماری کے اولین ایام میں ٹیموں کو پہلے 3 سے 4 روز 58 گاڑیاں فراہم کی گئیں لیکن بعد میں 58 گاڑیوں میں سے صرف 6 گاڑیاں فراہم کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مردم شماری کا عملہ کچھ روز سے اپنی مدد آپ کے تحت ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے پر مجبور ہوا اور اس بارے میں کہنا تھا کہ اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈلوانا جیب پر اضافی بوجھ ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ اسی پریشانی کے پیش نظر ضلع کورنگی اور لانڈھی میں مردم شماری عملے نے وقتی طور پر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مردم شماری کی ڈیوٹیوں پر تعینات عملے کو گنجان آبادی اور چھوٹی اور تنگ گلیوں میں نیٹ ورک نہ ہونے کا بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ ٹیبلٹس میں جی پی ایس کا درست کام نہ کرنا ایک مسئلہ بن رہا ہے اور عملے کے اراکین ٹیبلٹس کو اکثر ری اسٹارٹ کرتے ہیں تب ان کو اپنی درست لوکیشن ملتی ہے۔

اس کے علاوہ عام شہریوں میں مردم شماری کی افادیت سے آگاہی نہ ہونے کی بنا پر ورکرز کو گھر گھر پیدل جاکر فرائض کی ادائیگی میں مشکلات پیش آرہی ہیں بہت سے لوگ اجنبی لوگوں کو اپنے دہلیز پر دیکھ کر پہلے تو شش و پنج میں پڑجاتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہوں گے، جبکہ کچھ لوگ ان سے تعاون کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جس پر ان کو سمجھانا بھی وقت طلب اور اکثر مشکل ثابت ہورہا ہے، تاہم اس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوئے ہیں۔

کراچی کے بعض علاقوں سے بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جس کی وجہ حکومت کی جانب سے مردم شماری کی افادیت سے آگاہی دینا اور مناسب تشہیر نہ ہونا ہے۔ عملے کے مطابق بعض لوگ انہیں کبھی گیس کمپنی والا تو کبھی سم کارڈ فروخت کرنے والا سمجھتے ہیں اور نظر انداز کردیتے ہیں جس پر ان کو سمجھانا پڑتا ہے اور اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے۔

سیاسی مسائل:
دوسری جانب ملک بھر خصوصاً سندھ میں ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کے انعقاد پر صوبے کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی نے اعتراض کیا ہے، پیپلز پارٹی پاکستان کے مرکز میں اتحادی حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت ہے اور بلاول بھٹو زرداری اس کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات ہیں، وفاقی حکومت پی پی کے اعتراضات نہیں دیکھتی تو سندھ وفاق کا ساتھ نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مردم شماری ہمارے اعتراضات اور مسائل کا حل نہیں، اس مردم شماری کو سپورٹ کرسکتے ہیں مگر جو طریقہ کار اپنایا گیا اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ بے ضابطگیاں ہوئیں تو ہم اس مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے۔ اس پر وفاقی حکومت تحفظات دور کرنے کیلئے متحرک ہوئی اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان ادارہ شماریات اور نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے اعلیٰ حکام کو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کے لیے کراچی پہنچنے کی ہدایات جاری کیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق کا کہنا ہے کہ 4 اپریل کو مردم شماری مکمل کرکے اس کے حتمی نتائج الیکشن کمیشن کو دے دیے جائیں گے، الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں پر 4 ماہ کا وقت لے گا، جس کے بعد اگلے انتخابات ستمبر یا اکتوبر میں ہوجائیں گے۔

مردم شماری اور اس کی افادیت :
ڈیجیٹل مردم شماری میں عملے سے تعاون اور خود کو شمار کروانے کے ساتھ اپنے دیگر اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو بھی اس عمل کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔

منصوبہ بندی اور وسائل کا انحصار شہروں کی آبادی پر ہوتا ہے لہٰذا بہت ضروری ہے کہ جتنے بھی پاکستانی ہیں ان کا شمار ڈیجیٹل مردم شماری میں صحیح طریقے سے ہوسکے یہ صرف ہمارے لیے ہی نہیں ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بھی سود مند ہے۔ ضروری ہے کہ مردم شماری کا عمل صحیح طریقے سے انجام پاسکے کیونکہ وسائل کی تقسیم اور سہولیات کی فراہمی اسی بنیاد پر ہوتی ہے۔

Comments