The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں طوفانی بارشوں سے شہر کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر تباہ

کراچی: شہر قائد میں طوفانی بارشوں سے شہر کا بوسیدہ انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارش نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا، مرکزی شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انڈر پاسز میں پانی جمع جب کہ کئی شاہراہوں اور علاقوں سے تاحال پانی کی نکاسی کا کام مکمل نہ کیا جا سکا۔

بارش ختم ہونے کے 2 دن بعد بھی نشیبی و مضافاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ پوش علاقے اور ان کی سوسائٹیز زیر آب ہیں، دوسری جانب شہر کی کئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ابلتے گٹروں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پوش سوسائٹیز، پی ای سی ایچ ایس، گلستان ظفر سوسائٹی، اسکیم 33، نارتھ ناظم آباد، ڈیفنس، اور کلفٹن میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے، ڈی ایچ اے میں خیابان بخاری، سحر، راحت، خیابان شجاعت، شہباز میں انتظامیہ کی جانب سے بارش کا پانی تاحال نہیں نکالا جا سکا، کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب ہونے سے رہائشی گھروں میں محصور ہیں۔

ڈیفنس، فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی میں گھروں میں پانی داخل ہونے سے املاک کو نقصان پہنچا، کئی گھروں اور فلیٹوں کے بیسمنٹ میں پانی ہونے سے شہریوں کی گاڑیاں بھی خراب ہو گئیں، متعدد علاقے 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود پانی کھڑا ہونے کے باعث بجلی سے محروم ہیں۔

دو دن گزرنے کے باوجود نرسری پر پانی کی نکاسی نہ ہونے سے مسجد میں بھرا پانی بھی نہیں نکالا جا سکا، تجارتی مرکز ٹاور اور صدر میں بھی جگہ جگہ گندا پانی جمع ہے، برساتی پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث لیاقت آباد انڈر پاس کے اوپر والی سڑک دھنس گئی ہے، ملیر ہالٹ جانے والی سڑک بھی بیٹھ گئی، گلستان جوہر، گلشن اقبال میں بھی سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں۔

بڑا بورڈ، نارتھ ناظم آباد، منگھوپیر، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، شیر شاہ، کیماڑی، لانڈھی کورنگی میں پہلے سے خراب سڑکیں مزید بدحال ہو گئیں۔

ادھر سندھ حکومت کو بھی تین دن بعد ہوش آ گیا ہے، حکومت نے کراچی کے 6 اضلاع سمیت صوبہ بھر کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے، کراچی کے 6، حیدر آباد ڈویژن کے 9 اضلاع، میرپورخاص ڈویژن کے 3 اضلاع جب کہ نواب شاہ ڈویژن کے 2 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں