site
stats
پاکستان

پیدائشی معذوربہنیں حکومتی امداد کی منتظر

چترال: چترال کے بالائی علاقے ویکوم کے قریب پشک گاؤں میں پیدائشی طورپردو معذور بہنیں بدیغ الجمال اور خنزہ کائی جن کی عمریں بیس سال سے زیادہ ہیں نہایت بے بسی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔

تفصیلات کے مطابق ان دومعذور بہنوں کا نہ تو کوئی بھائی ہے نہ بہن، بلکہ ان کی ماں کو بھی اس کے باپ نے طلاق دے کردوسری شادی کرلی اوران کا باپ سید عاقل شاہ جن کی عمر 75 سے زیادہ ہے خود بھی آنکھ سے معذور ہے۔ یہ بوڑھا باپ نہ تو محنت مزدوری کرسکتا ہے نہ کوئی اور کام کاج۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں فاقوں نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں۔

chitral-post-2

ان معذور بہنوں کی سوتیلی ماں کا کہنا ہے کہ میں ان لڑکیوں کو زبردستی کھانا تو کھلادیتی ہوں مگر کپڑے پہنتے وقت ضد کرکے انکار کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا جو امدادی کارڈ ہے وہ بھی ان معذور بہنوں اور معذور بوڑھے باپ کو نہیں ملا، انہوں نے الزام لگایا کہ اکثر افسر لوگ، سرکاری ملازمین اور صاحب حیثیت لوگوں کو کارڈ ملے ہیں مگر غریب ، معذور اور نادار لوگ اس سے محروم رہ چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کی جانب سے انصاف کارڈ بھی ان کو نہیں ملا اور صوبائی حکومت کی طرف سے صحت کارڈ جس کے ذریعے ایسے نادار لوگوں کی مفت علاج معالجہ ہوگا وہ بھی ان دو معذور بہنوں کو نہیں ملا بلکہ وہ اکثر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے کے مطابق ان لوگوں کو دئے گئے جن کو بی آئی ایس پی کارڈ جاری ہوئے ہیں۔

chitral-post-1

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے گھر کے چار کمریں زلزلے کی وجہ سے زمین بوس ہوئے ہیں مگر نہ تو مجھے حکومت کی طرف سے امدادی رقم کا ایک لاکھ روپے کا چیک ملا نہ کوئی دوسرا امدادی سامان بلکہ یہ چیک بھی اکثر ایسے لوگوں کو ملے جن کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔

chitral-post-3

انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے کہ ان کی دو معذور بیٹیاں ابھی تک بی آئی ایس پی کارڈ، انصاف کارڈ اور صحت سہولت پروگرام اور امدادی چیک سے کیوں محروم رہ چکے ہیں، انہوں نے اپیل کی کہ ان کی دومعذور بیٹیوں کی مفت علاج ان کو کھانے پینے کی چیزیں دلوانے کے لئے حکومت بندوبست کرے اور ان کے ساتھ مدد کرے تاکہ یہ غریب گھرانہ فاقہ کا شکار نہ ہو اور چونکہ ان کے ہاں کوئی نرینہ اولاد بیٹا نہیں ہے حکومت ان کی تباہ شدہ مکان کی دوبارہ تعمیر کے لئے بھی بندوبست کرے ۔

chitral-post-4

نوٹ: مذکورہ خاندان کی مدد کرنے کے خواہشمند افراد مندرجہ ذیل ای میل ایڈریس پر رابطہ کرسکتے ہیں

[email protected]

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top