کوہستان کے معذور شاعر ولی صادق کے عزم و ہمت کی داستان wali sadiq
The news is by your side.

Advertisement

کوہستان کے معذور شاعر ولی صادق کے عزم و ہمت کی داستان

کوہستان کے معذور شاعر صادق کہتے ہیں کہ میں نے شاعری شروع کی تو سخت گیر موقف رکھنے والے عزیز و اقارب اور بیشتر مقامی افراد ذہنی بیمار اور پاگل جیسے القاب سے یاد کرتے تھے لیکن اب صورتحال یکسر مختلف اور لوگ ٹولیوں کی شکل میں کلام سنتے آتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد ولی صادق کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، ان کے بوڑھے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں جبکہ بڑا بھائی دماغی نوازن کھونے کی وجہ سے ایک کمرے تک محدود ہے۔

محمد صادق کے پاس اپنی کتاب شائع کروانے کے لیے رقم بھی نہیں تھی، پھر علاقے کے چند نوجوانوں نے مل کر چندہ مہم شروع کی اور تقریباً ایک سال کی جدوجہد کے بعد 85 ہزار روپے اکٹھے ہوئے جس سے کتاب کی چھپائی ممکن ہوئی۔

وہ اپنی زندگی کو ایک المیے سے تعبیر کرتے ہیں جہاں درد اور کرب کے علاوہ کسی اور چیز کی توقع نہیں تاہم وہ بہت خوش ہیں کیونکہ اب ان کی لکھی ہوئی کتاب، فریاد صادق، شائع ہوئی ہے، جس علاقے میں شاعری کو کار فضول اور معیوب سمجھا جاتا ہو وہاں کار سخن ایک باہمت اور حوصلہ مند ہی کرسکتا ہے۔

کتاب کے لیے چندہ جمع کرنےو الے محمد جاوید نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کتاب کی اشاعت کے لیے مالی مدد کی اپیل کی تھی لیکن حکومت اور ادبی تنظیموں سمیت کسی نے پوچھا تک نہیں۔

صادق اس بات پر افسردہ نظر آئے کہ کتاب کی تقریب رونمائی میں کسی سرکاری شخصیت نے شرکت نہیں کی اگرچہ ڈپٹی کمشنر کوہستان کو اس حوالے سے خصوصی دعوت دی گئی تھی۔

ولی صادق کی شاعری میں زمانے کی بے حسی کا غم، دوست و احباب کی کنارہ کشی کا دکھ اور عشق و محبت کے موضوعات ملتے ہیں، ان کے کلام میں کہیں تصوف کے مضامین موجود ہیں تو کہیں زندگی سے مایوس اور کبھی تقدیر پر صابر وشاکر بھی نظر آتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں