22.3 C
Ashburn
اتوار, مئی 26, 2024
اشتہار

مخمل کا کوٹ

اشتہار

حیرت انگیز

دیوان سنگھ مفتون نے اردو ادب اور صحافت میں‌ بڑا نام پایا اُن کے کالم، آپ بیتی اور صحافت کی دنیا میں‌ اُن کے زور دار اداریے بہت مشہور ہیں۔

1924 میں سردار دیوان سنگھ مفتون نے دہلی سے اپنا مشہور ہفتہ وار با تصویر اخبار ”ریاست“ نکالا تھا اور کہتے ہیں کہ یہ ہر لحاظ سے اعلیٰ پائے کے جرائد کی ہمسری کا دعویٰ کرسکتا تھا۔

وہ ایک ایسے اہلِ‌ قلم تھے جس نے زندگی کے ہفت خواں طے کرنے کے لیے مختلف کام سیکھے، پیشے اختیار کیے اور اپنی محنت اور لگن سے ادب اور صحافت میں نام وَر ہوئے۔ مفتون نے اپنی تصنیف میں ایک دل چسپ واقعہ لکھا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

- Advertisement -

ایڈیٹر "ریاست” (دیوان سنگھ مفتون)‌ کی عمر ایک ماہ دس روز تھی جب والد کا انتقال ہو گیا اور یتیمی نصیب ہوئی۔ اُس وقت گھر میں روپیہ، زیورات، زمین اور مکانات کے کاغذ تھے۔ کیونکہ والد صاحب نے اپنی کام یاب زندگی میں کافی روپیہ پیدا کیا تھا۔

والد کے انتقال کے بعد رشتہ داروں نے زمین اور مکانات پر قبضہ کر لیا۔ اور بارہ سال تک بغیر کسی آمدنی کے ضروریاتِ زندگی اور بڑے بھائی اور بہنوں کی چار شادیوں پر روپیہ صرف ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایڈیٹر ریاست کی عمر جب بارہ سال کی تھی تو گھر میں کھانے کے لئے بھی کچھ نہ تھا۔ چنانچہ تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اور ایڈیٹر ریاست پانچ روپیہ ماہوار پر حافظ آباد میں ایک بزاز کی دکان پر ملازم ہوا۔ کام یہ تھا کہ اندر سے کپڑوں کے تھان لا کر خریداروں کو دکھائے جائیں۔ اس ملازمت کے دو واقعات مجھے یاد ہیں جن کا میرے کیریکٹر پر بہت نمایاں اثر ہوا۔

یہ دکان ایک ہندو بزاز کی تھی۔ اور اس دکان پر ایک بوڑھا مسلمان درزی اور اس کا جوان بیٹا کام کرتے تھے۔ یہ باپ اور بیٹا حافظ آباد کے قریب کسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ چند دن کے لئے باپ کسی شادی میں شریک ہونے اپنے گاؤں گیا تو اپنی غیر حاضری کے دنوں کے لئے اپنے بیٹے کو چند کپڑے سپرد کر گیا تا کہ ان کو وہ تیار کر رکھے۔ بوڑھا درزی جب واپس آیا تو بیٹے کے سلے ہوئے کپڑوں کو دیکھا تو ان میں کسی بچے کا سبز رنگ کی مخمل کا ایک کوٹ بھی تھا جو اس کے بیٹے نے سبز رنگ کے تاگے کی بجائے سفید رنگ کے تاگے سے سیا تھا۔ اس غلطی کو دیکھ کر بوڑھے باپ نے جوان بیٹے کے منہ پر زور سے تھپڑ مارا، اور کہا کہ
نالائق تو دیہات کے رہنے والے جاٹ کے لڑکے (جس کا کوٹ سیا تھا) پر رحم نہ کرتا مگر اس مخمل پر تو رحم کرتا جس کا ستیاناس کر دیا۔

چنانچہ اس مسلمان بوڑھے باپ نے مخمل کے اس کوٹ کی سلائی کو کھولا، سفید تاگے نکالے اور سبز تاگے سے سیا۔

اس واقعہ کا میری طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ چاہے میں نے چھ روپیہ تنخواہ لی یا بارہ روپیہ یا دو سو روپیہ اور چاہے ملازمت کی یا خود اپنا کام کیا۔ تمام زندگی ہمیشہ کام کو دیکھ کر کام کیا نہ کہ اس کے معاوضہ کو۔ ہمیشہ بارہ گھنٹے سے اٹھارہ گھنے تک کام کیا۔ چاہے تنخواہ کچھ بھی ملتی تھی۔ اور شاید ایک دفعہ بھی ایسا نہ ہوا ہو گا کہ کسی کام کو کرتے ہوئے اُس پر پوری توجہ نہ دی ہو۔ غرض میرے کیریکٹر پر اس واقعہ نے بہت بڑا اثر کیا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں