site
stats
خواتین

خواتین میک اپ کر کے ورزش نہ کریں، ماہرین طب کا انتباہ

باقاعدہ ورزش کے فوائد سے کون واقف نہیں جہاں یہ شوگر اور دل کے امراض سے محفوظ رکھتی ہے وہیں جسم کو چست اور متحرک رکھنے میں بھی کارگر ثابت ہوتی ہے اس لیے ڈاکٹرز اور محققین ہر خاص و عام کو روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنا تجویز کرتے ہیں.

تاہم اگر ورزش کے وقت چند باتوں کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کے مطابق میک اپ کر کے ورزش کرنے والی خواتین کو جلد کی پیچیدہ بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.

برطانیہ کی معروف ماہر امراض جلد بریتھی ڈینیئل کا کہنا ہے کہ جو خوا تین ورزش سے پہلے چہرے پر میک اپ کی غرض سے کاسمیٹکس لگاتی ہیں اُن کے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں جس سے پسینے کا اخراج بند ہوجاتا ہے.

ڈاکٹر بریتھی جو ڈاکٹرز کلینک کی ڈائریکٹر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ چہرے کے مسام سے پسینے کا اخراج نہ ہو پانا جلدی امراض کو دعوت دیتا ہے اور مسام پر گندگی جمع ہو کر سیاہ کیل اور مہاسوں میں تبدیل ہوجاتی ہے.

اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید بتایا کہ چہرے سے ورزش کے دوران پسینہ آنا عمل تنخیر کے لیے بہت ضروری ہے تاکہ جلد ٹھنڈی رہے تاہم میک اپ کے استعمال کے باعث مسام سے کثافتیں باہر نہیں نکل پاتیں.

ڈاکٹر بریتھی نے کہا کہ میک اپ کے باعث مسام کے منہ بند ہو جاتے ہیں اور پسینے کے ذریعے جلد کی کثافتیں باہر نہیں آ پاتیں جو بعد ازاں سوزش کا باعث بن جاتی ہے اور جلد ڈھیلی ہوکر ڈھلکنے لگتی ہے.

ڈاکٹر بریتھی ڈینیئل اس نئی تحقیق کی روشنی میں خواتین کو ورزش سے قبل میک اپ اتارنے اور منہ کو صحیح طریقے سے دھونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس معمولی عمل سے آپ اپنے چہرے کی تازگی اور شادابی کو لمبے عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہیں.

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو خواتین کسرت سے پہلے اچھی طرح چہرہ دھو کرجم جاتی ہیں اُن کے چہرے کی شادابی اور رنگت پر ورزش کے مثبت اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں جب کہ میک اپ کر کے جم جانے والی خواتین کے چہروں کو کیل مہاسوں اور جلد کی سوزش کا سامنا رہا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top