site
stats
پاکستان

عرب ممالک اور قطر کا تنازع، 500 پاکستانی عمرہ زائرین دوحا میں‌ پھنس گئے

دوحا: سعودی عرب کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد 500 سے زائد پاکستانی عمرہ زائرین دوحا ایئرپورٹ پر 10 گھنٹے سے پھنسے ہوئے ہیں لیکن ان کی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندہ لاہور واصف محمود کے مطابق قطر ایئرویز کے ذریعے دوحا کے راستے سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے، لاہور سے دوحا پانچ سو سے زائد پاکستانی قطر ایئرویز کی پروازوںqr-621 اورqr- 629 کے ذریعے دوحا ایئرپورٹ پہنچے ہیں جو مسلسل احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کی سنی نہیں جارہی۔


یہ ضرور پڑھیںسعودی عرب مصر سمیت 6 عرب ممالک کے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع


مسافروں کا کہنا ہے کہ نہ انہیں کھانا دیا جارہا ہے اور نہ انہیں ہوٹل منتقل کیا جارہا ہے جیسا کہ کسی بھی پرواز کی تاخیر کی صورت میں ہوتا ہے۔

مسافروں نے بتایا کہ وہ بہت تکلیف کا شکار ہیں، زائرین میں 7 سے 8 کم سن بچے بھی موجود ہیں، ابھی تک پاکستانی سفارت خانے نے کوئی رابطہ نہیں کیا، وہ لائؤنج میں بیٹھے ہیں اور انہیں دس گھنٹے کا وقت گزر چکا ہے لیکن انتظامیہ کوئی واضح بات نہیں کہہ رہی اور اگلی فلائٹ سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کررہی۔

ایک پاکستانی نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ (دیکھیں ویڈیو) ہم لوگ لاہور سے دوحا صبح 5 بجے پہنچے، آٹھ بجے سے احرام میں ہیں اور اب 10 گھنٹے گزر چکے ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ غیر معینہ مدت تک لیے قطر ایئرویز کی تمام فلائٹس منسوخ کردی گئی ہیں۔

مسافر نے کہا کہ ہمیں قطر ایئرپورٹ  والے کچھ گائیڈ نہیں کررہے حکومت سے اپیل ہے کہ وہ مدد کرے، ہم 4 سے 5 سو پاکستانی ہیں جو یہاں بہت پریشان ہیں۔

واضح رہےکہ سعودی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد نےقطرپرالقاعدہ اور داعش کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے جس کے بعد سعودی عرب سمیت 6 عرب ممالک نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کردیے ہیں اور قطر ایئرویز کو ان چاروں ممالک کے ایئرپورٹس آنے سے روک دیا گیا ہے

ان ممالک نے تمام قطری افراد کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔

دوسری جانب قطر نے اس بائیکاٹ کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

یہ پڑھیں: قطر نے عرب ممالک کے اقدام کو بلا جواز قرار دے دیا


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top