site
stats
پاکستان

دہشت گردوں کو فنڈنگ، روک تھام کے لیے اقدامات کر لیے، چوہدری نثار

اسلام آباد:وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بعض غیر ملکی حساس ادارے بھی دہشت گردوں کی فنڈنگ کر رہے جب کہ بھتے اور منشیات فروشی سے موصول رقم بھی فنڈنگ میں استعمال ہوتی ہے جس کی روک تھام کے لیے اسٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کردی ہیں۔

یہ بات وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے سینیٹ میں اپنے تحریری جواب کے ذریعے اجلاس کو شرکاء کو بتائی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کی 100 فیصد معلومات حاصل کرنا مشکل ہے، بعض غیر ملکی حساس ادارے بھی دہشت گردوں کوفنڈنگ کرتے ہیں جب کہ بھتے اور منشیات فروشی سے وصول رقم بھی دہشت گردوں تک پہنچتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح تنظیمیں فنڈز کے لیے منشیات فروشوں سے رابطے میں رہتی ہیں جس کے لیے دہشت گرد اورمنشیات فروش پاک افغان سرحد پر سرگرم رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سیکڑوں معاملات زیرتفتیش ہیں جس پر عملی اقدام اُٹھاتے ہوئے وزارتِ داخلہ نے فنڈنگ روکنے کےلیےا سٹیٹ بینک کوہدایات جاری کی ہیں۔

وفاقی وزیر چوہدری نثار فنڈنگ کے حوالے سے مقدمات کی تفصیلات بتاتے ہو کہا کہ فارن ایکس چینج ریگولیشن ایکٹ کےتحت 498 مقدمات درج ہیں جب کہ اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت 230 مقدمات اور مشکوک ترسیلات کی رپوٹس پر 116 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

وزیرداخلہ نے ملک میں کالعدم جماعتوں کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ 62 کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کی گئی ہے جب کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی فہرست بھی معزز ایوان کو فراہم کردی گئی ہے۔

دریں اثنا سینیٹ میں دہشت گردی کے واقعات اورجانی نقصان کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور حکومت میں دہشت گردی کے 5321 واقعات ہوئے جن میں 4613 افراد جاں بحق اور 12188 زخمی ہوئے۔

ان کی سالانہ ترتیب یوں بنتی ہے کہ سال 2013 میں 1794 افراد جاں بحق اور 5352 زخمی، سال 2014 میں 1172 افرادجاں بحق اور3185 زخمی، سال 2015 میں 838 افراد جاں بحق اور 1706 زخمی اور سال 2016 میں 804 شہری جاں بحق اور 1914 زخمی ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top