The news is by your side.

ڈالر کا ریٹ فکس نہیں کرسکتے، اسحاق ڈار

کراچی : وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، ان کا کہنا ہے کہ بجٹ خسارہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، ڈالر کا ریٹ  فکس نہیں کرسکتے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کئی بار نیچے آیا ہے ڈالر ابھی 223 سے 224 کے درمیان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ڈالر کی بیرون ملک اسمگلنگ ہورہی ہے، ڈالر کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے ہرممکن اقدامات بھی کررہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں توقع تھی کہ ڈالر 200 روپے پر آجائے گا تاہم ڈالر کا ریٹ فکس نہیں کرسکتے، ڈالر افغانستان اسمگل ہورہا ہے جس کے منفی اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے مزید مسائل بھی ہیں جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا مسائل پیدا ہوتے رہیں گے، تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سب کو پتہ ہے اگر سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو ملک میں معاشی عدم استحکام ہوگا، کبھی لانگ مارچ ،کبھی دھرنا کبھی کچھ، اللہ کرے سب کو ہدایت ملے۔

ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا اور نہ کرے گا کیونکہ پاکستان اس سے زیادہ مشکل میں بھی رہا ہے لیکن ڈیفالٹ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: ‘ملکی معیشت کے لئے دعاؤں،دواؤں کی ضرورت ہے’

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم ابھی مشکلات میں ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں پاکستان ڈیفالٹ بھی کرجائے گا، جو لوگ ایسا بیان دیتے ہیں ان کو سوچنا چائیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔

بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے پلاننگ کرنا ہوگی، بجٹ خسارہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اس کو کم کرنا ہوگا، پاکستان کے قرض جی ٹی پی کے حساب سے 72 فیصد ہے، امریکہ کے قرض جی ڈی پی کے حساب سے 110فیصد ہے اور برطانیہ کا101 فیصد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں