The news is by your side.

Advertisement

امریکی صدارتی امیدوارڈونلڈ ٹرمپ ٹیکس نادہندہ نکلے

واشنگٹن : امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے 1995 سے وفاقی ٹیکس نہیں دیا ہے۔

بین الاقوامی جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے 1995 میں اپنے کاروبار میں 916 ملین ڈالرز کا نقصان ظاہر کیا تھا جسے پورا کرنے کے لیے انہیں اگلے 18 سال تک ٹیکس میں چھوٹ مل گئی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے ذاتی ٹیکس گوشواروں تک رسائی غیر قانونی عمل ہے اور نیو یارک ٹائمز یہ سب کچھ ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے کررہا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس نادہندہ ہونے کا دعوی آمدنی پر لاگو ٹیکس کا مطالعہ کرنے والے ماہرمالیات نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیکس گوشواروں کا تجزیہ کرنے کے بعد کیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ 1995 میں 916 ملین ڈالرز کا نقصان دکھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو نقصان کو پورا کرنے کے لیے 18سال تک سالانہ 50 ملین ڈالرز کی چھوٹ ملی،تا ہم 1995 کے بعد سے ڈونلڈ کی آمدنی میں نفع یا نقصان کا کوئی ریکارڈ میئسر نہیں آسکا ہے۔

واضح رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے دوران انتخابی مہم اپنے ٹیکس گوشواروں کو جاری کرنے سے منع کر دیا تھا جب کہ اس سے قبل امریکی صدر کے انتخاب لڑنے والے امیدوار اپنے ٹیکس گوشوارے جاری کرتے رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابہ مہم کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ماہر تاجر اور کئی خیراتی اداروں کے روح رواں ہیں اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنے اہل خانہ اور ملازمین کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی پوری کرنے کی ذمہ داریاں ہیں اس لیے وہ ریاست کو اُتنا ہی ٹیکس دے سکتے ہیں جتنا کہ آئین اجازت دیتا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پراپرٹی،سیلز،ایکسائزڈ،جائیداد،ملازمین،بلدیاتی اور وفاقی ٹیکس کی مد میں لاکھوں ملین ڈالرز رقم بطور ٹیکس دی ہیں اس لیے یہ کہنا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہیں،جھوٹی بات ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں