The news is by your side.

Advertisement

ڈرون گرانے پرٹرمپ نے ایران پرحملے کا حکم دیا اوراچانک واپس لے لیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

نیویارک : ایران کے امریکی ڈرون گرانے کے بعدمشرق وسطی میں جاری تناؤ مزید بڑھ گیا، امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے انکشاف کیا ہے امریکی ڈرون گرائے جانےکےبعدٹرمپ نےایران پر حملے کاحکم دیاتھا لیکن حملےکافیصلہ اچانک واپس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعددونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے انکشاف کیا ہے کہ ڈرون گرائے جانے کے بعد صدرٹرمپ نے اعلی حکام اجلاس طلب کیا اور ایران میں ریڈارز اور میزائل ڈپوزکو نشانہ بنانے کا حکم دیا تھا۔

امریکی اخبار کا کہنا تھا امریکی طیارے فضاؤں میں آگئےتھے اور بحری جہازوں نے پوزیشن لےلی تھی تاہم آپریشن کے آغاز سے چندگھنٹے قبل ہی صدرٹرمپ نے حملے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا۔

اس سے قبل ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکی ڈرون گرا کر بہت بڑی غلطی کی۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ڈرون ہتھیاروں سے لیس نہیں تھا، بغیر پائلٹ ڈرون بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کررہا تھا، بہت جلد سب کچھ سامنے آجائے گا، ایران نے ڈرون گراکر بہت بڑی بے وقوفی کی۔

مزید پڑھیں : ایران نے امریکی ڈرون گرا کر بہت بڑی غلطی کی، ٹرمپ کا ردعمل

یاد رہے ایران کے پاسداران انقلاب نے گزشتہ روزجنوبی علاقے میں امریکی ڈرون مارگرایا تھا، جس کی فوٹیجز منظرعام پرآگئیں، ایران کا کہنا ہے ڈرون گرانا امریکا کے لئے پیغام ہے۔

جس کے بعد امریکی اہلکار نے غیرملکی خبرایجنسی سے بات چیت میں ایران کی جانب سے ڈرون گرانے کی تصدیق کی تھی ، امریکی اہلکارکا کہنا تھا امریکی بحریہ کا طیارہ آبنائے ہرمز کی عالمی حدودمیں پروازکررہا تھا۔ڈرون پرزمین سے میزائل فائرکیا گیا۔

واضح رہے امریکا نے گزشتہ دنوں خلیج عمان میں دوآئل ٹینکروں پرحملوں کا ذمہ دارایران کوقراردیا تھا۔ایران نے امریکی الزامات کی تردید کی ہے، ایران پرنئی امریکی پابندیوں کے بعددونوں ممالک کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے۔امریکی فوجی اوربحری بیڑے مشرق وسطی میں موجود ہیں۔

عالمی برادری نے فریقین پرتحمل سے کام لینے اورمشرق وسطی میں تناؤ کم کرنے کے لئے اقدامات پرزوردیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں