site
stats
بزنس

ڈولڈ ٹرمپ کی جیت، معاشی پالیسوں میں تبدیلی متوقع

واشنگٹن : امریکہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو ایک اپ سیٹ قرار دیا جارہا ہے، ایک کاروباری شخصیت کے صدر بننے کے بعد تجارتی اور معاشی پالیسوں میں تبدیلی متوقع ہے۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مقامی صنعت کا تحفظ اور درآمدی مصنوعات کی حوصلہ شکنی ایک اہم پوائنٹ تھا، عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا اکنامک نیشنلازم ایشیائی معیشتوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ نے بارہا چینی معاشی پالیسوں پر تنقید کی ہے، چینی درآمدی مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کا اطلاق عین ممکن ہے، چین معاشی سست روی پورے خطے کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔

بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ نے بار ہا چینی معاشی پالیسوں پر تنقید کی ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر کو چینی کرنسی کی قدر میں جوڑ توڑ اور سازشی طور پر چینی کرنسی کی مالیت کو کم رکھنے والا قرار دیا، چینی درآمدی مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کا اطلاق عین ممکن ہے، چین اور امریکہ کے درمیان تجارت نمایاں عدم توازن کا شکار ہے، سال دوہزار پندرہ میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی خسارے کا حجم تین سو تینتالیس ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

معاشی ماہرین کےمطابق یوان کی قدر میں کمی اور چینی درآمدات پر ٹیکسوں کا اطلاق چین معاشی سست روی کا باعث بنے گا، جو پورے خطے کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ دنیا بھر کے معاشی ماہرین اس خیال کی تائید کر رہے ہیں ۔

ایک غیر ملکی سروے کے مطابق ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کے منفی اثرات سب سے زیادہ لاطینی امریکہ اور دوسرے نمبر پر ایشیاء پر ظاہر ہونگے، چین کے علاوہ فلپائن کوریا اور جاپان بھی اس پالیسی شفٹ سے متاثر ہوسکتے ہیں، فلپائنی تارکین وطن کاسب سے بڑا حصہ امریکہ میں آباد ہے اور فلپائن کی برآمدات کا بڑا حصہ امریکہ کو جاتا ہے۔

مشہور اکنامک اخبار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے اور بحثیت صدر ٹرمپ کے پاس تجارتی معاہدوں کو کانگریس کی منظوری کے بنا فسخ کرنے کی پاور موجود ہے۔

عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں تو یہ وعدے خود امریکی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، خاص طور پر امریکی عوام کیلئے ٹیکسوں میں کمی، ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی دفاع اور انفراسٹرکچر پر اخراجات میں اضافے کا بھی عندیہ دیا۔

یہاں قابل ذکر وہ دیوار ہے جو ٹرمپ نے امریکہ اور مکیسیکو کے باڈر پر بنانے کا کہا ہے ۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ کی ممکنہ فتح: ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی


یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ کے منتخب ہونے پر دنیا بھر کی اسٹاک اور مرکنٹائل مارکیٹس میں بے چینی ریکارڈ کی گئی تھی اور دنیا بھر کے سرمایہ کار بھی پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ تاہم آہستہ آہستہ مارکیٹس نے اس شاک کو قبول کر لیا۔

میکسیکن پیسو اور امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی جبکہ خام تیل کی قیمت میں بھی ایک ڈالر کی کمی جبکہ سونے کی قیمت میں 51 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top