The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کی امیدوں پر پانی پھر گیا

واشنگٹن: امریکی عدالتوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب امریکا کی چار مختلف عدالتوں نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرانے کی کوششوں پر فل اسٹاپ لگادیا۔

نیواڈا کی ضلعی جج جیمز رسل نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ صدارتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے والا پورا معاملہ مکمل طور پر خارج کردیا گیا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتخابات کے نتائج کے خلاف قابل اعتماد اور متعلقہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مشی گن کی عدالت نے بھی صدر ٹرمپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ کو انتخابات کی دھاندلی پر تشویش ہے تو انہیں ریاستی قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے تھا جو انہوں نے نہیں کیا۔

اس کے علاوہ جارجیا میں گیارہویں سرکٹ کورٹ آف اپیلس نے بھی ٹرمپ کی اپیل مسترد کردی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قانونی ٹیم نے حقیقت میں یہ دعوی کیا تھا کہ ڈومینین ووٹنگ مشینوں کو ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے حق میں انتخابات میں دھاندلی کے لئے بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکا: سینیٹ میں واضح برتری کے لیے نظریں ریاست جارجیا پر

واضح رہے کہ ٹرمپ نے کئی امریکی ریاستوں کے الیکشن نتائج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جو اب کسی کام آتا نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ ریاستوں کا کہنا ہے کہ انہیں بڑے پیمانےپر الیکشن دھوکہ دہی اور بے ضابطگیوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور عدالتوں نے بھی معاملہ خارج کردیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ آئندہ چار سال بعد دوبارہ انتخابی میدان میں کودنے کے لیے تیاری کررہے ہیں، انہوں نے اپنے اس پلان پر کام بھی شروع کردیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میرے گزشتہ چار سال شاندار تھے۔

ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں کرسمس پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم مزیدچار سال کے لیے کوشاں ہیں، اگر ایسانہ ہوا تو چار سال بعد دوبارہ میدان میں اتریں گے، ڈاک کے ذریعے منصوبہ بندی کرکے ووٹر فراڈ کیا گیا۔

امریکی صدر کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے الزامات سے انتخابی عملے کو دھمکیاں اور معاشرے میں اشتعال پھیل رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں