site
stats
کھیل

چترال میں ہوا انوکھا پولو میچ جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی

چترال: پولو کو بادشاہوں کا کھیل یا کھیلوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے جسے کھلاڑی شاہی سواری یعنی گھوڑے سے کھیلتے ہیں تاہم چترال کے شاہی مزاج لوگ اگر شاہی سواری یعنی گھوڑا نہ پائیں تو اس شاہی کھیل کے شوق کو گدھوں سے بھی پورا کرتے ہیں۔

چترال میں پولو عام طور پر کھیلا جاتا ہے جسے چھوٹے بڑے جوان اور بوڑھے یکساں طور پر کھیل لیتے ہیں ۔ بادشاہوں کے اس کھیل یا کھیلوں کے بادشاہ یعنی پولو کو کھیلنے کیلئے شاہی سواری (گھوڑا) پالنا لازمی ہے۔

تاہم موجودہ مہنگائی کے دور میں لاکھوں روپے خرچ کرکے گھوڑا پالنا اگر ناممکن نہیں تو نہایت مشکل ضرور ہے۔ کیونکہ پولو کیلئے تربیت یافتہ گھوڑا ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک ملتا ہے جسے عام آدمی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

D1

مگر اس شاہی کھیل کی شوق کو پورا کرنے کیلئے چترال کے شاہی مزاج لوگ گدھوں کے ذریعے بھی پولو کھیلتے ہیں جس میں دو ٹیموں کے درمیان گدھا پولو کا نہایت دلچسپ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ہر ٹیم میں چھ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ اس کھیل کے دوران دلچسپ منظر اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی کھلاڑی گدھے سے نیچے گرتا ہے جسے دیکھ کر تماشائی نہایت محظوظ ہوتے ہیں۔

D3

اس دلچسپ کھیل کو دیکھنے کیلئے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی چترال کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ مس جولینا بھی گدھوں کے ذریعے کھیلنے والے پولو میچ کو دیکھنے کے لئے چترال آئی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پولو نہایت دلچسپ کھیل ہے اور گدھا پولو دیکھ کر وہ نہایت خوش ہوئی اور اسے بہت مزہ آیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چترال نہایت پر امن ضلع ہے جہاں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں ہے اور وہ چترال آکر ایسا محسوس کرتی ہے جیسے کہ اپنے گھر میں بیٹھی ہے۔

D2

ایک سوال کے جواب میں مس جولینا نے کہا کہ مغربی میڈیا میں پاکستان کے خلاف جو منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں لوگ سیاحوں کو مارتے ہیں وہ تاثر چترال آکریکسر ختم ہوجاتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ وہ یہاں آکر گھر جیسے ماحول میں نہایت خوشی محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے حکومت کی اس اقدام کو بھی سراہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں غیر ملکی سیاحوں پر این او سی حاصل کرنے کیلئے پابندی حتم کردی گئی ہے یعنی اب کوئی بھی سیاح بغیر کسی این او سی کے چترال آسکتا ہے۔

گدھا پولو کی کھیل کو دیکھنے کیلئے پورے علاقے سے کثیر تعداد میں تماشائی پولو گراؤنڈ چترال پہنچے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top