The news is by your side.

Advertisement

شارجہ:‌ عمارت کی سیڑھیوں‌ اور راہداری میں سامان رکھنے پر پابندی، بھاری جرمانہ ہوگا

شارجہ: متحدہ عرب امارات کے حکام نے عمارتوں کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ گھروں کا کاٹ کباڑ بیچ راستے میں ڈال کر سیڑھیوں کا راستہ بند نہ کریں بصورت دیگر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ادارے کے حکام نے شارجہ میں واقع عمارتوں کا معائنہ کرنے کے بعد ہدایت نامہ تیار کیا جس میں کہا گیا ہے کہ  اس کا اطلاق اُن تمام شہریوں پر ہوگا جو عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں۔

شارجہ میں حادثات کی روک تھام اور حفاظتی اقدامات دیکھنے والے ادارے (ایس پی ایس اے) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معائنہ کرنے والی ٹیم نے 17 علاقوں کی 4ہزار 345 عمارتوں کا دورہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 80 فیصد عمارتوں میں سامان رکھنے کی وجہ سے راستے بند ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پرانے فرنیچر کو ایمرجنسی ایگزیٹ یا راہداری میں رکھ کر راستہ بند کرنا عمارت کے رہائشیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لہٰذا اس عمل سے گریز کریں  بصورت دیگر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: شارجہ، شوہر کے زیادہ محبت کرنے پر خاتون نے طلاق مانگ لی

ایس پی ایس اے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ راہداری، سیڑھیوں پر سامان رکھنا کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے،گزرگاہوں یا ہنگامی راستوں پر رکھے ہوئے سامان کو  فوری طور پر ہٹایا جائے۔ عمارت کے مالکان اور رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پانچ روز کے اندر تمام راستے کلیئر کرلیں بصورت دیگر 10 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ معائنہ کرنے والی ٹیم کی کاررائیوں کا مقصد عمارتوں سے دھوئیں کا اخراج اور آگ بجھانے کے آلات کی تنصیب کو یقینی بنایا ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جائے، اسی طرح ہنگامی اخراج کے لیے سیڑھیوں ، لفٹ کے راستوں کو بھی کلیئر کرایا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس پی سی اے رواں سال پانچ ہزار نئی عمارتیں تعمیر کرنے کی منظوری دینے کا ارادہ رکھتا ہے، پرانی اور نئی عمارتیں تعمیر کرنے والے تمام افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ تعمیرات کے وقت رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے حفاظتی اقدامات کے قوانین پر  عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیم عمارت کے نقائض کی نشاندہی کرے گی اور پہلے مرحلے میں مالکان کو متنبہ کردیا جائے گا کہ وہ خامی کو دور کریں، اگر کسی نے تجاویز (ہدایات) پر عمل نہ کیا تو اُس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں