The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان حکومت کو مستحکم کرنے کیلئے بھر پور تعاون کرینگے، ڈاکٹرعبدالمالک

اسلام آباد : وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ ڈھائی سالہ دور اقتدار ملک اور صوبے کیلئے وہ سب کیا جو وہ کر سکتے تھے، وزیر اعظم نواز شریف کو یقین دلاتے ہیں کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کو مستحکم کرنے کیلئے بھر پور تعاون کریں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ مستقبل میں بلوچستان کی ترقی اور امن کے لئے مفاہمتی پالیسی ترجیحی بنیادوں پرجاری رکھیں گے۔صوبے میں اتحادی ہونے کے ناطے وفاق اور آئندہ کی صوبائی حکومت کو مکمل سپورٹ فراہم کریں گے ۔

روز اول سے خواہش تھی کہ صوبے میں کشت و خون کا خاتمہ ہو ۔ناراض بلوچوں کو منانا پیچیدہ عمل ہے لیکن ناراضگی دور کرنے کے مفاہمتی عمل کا آغاز کیا ۔براہمداغ بگٹی سمیت متعدد ناراض رہنماء مذاکرات کے لئے تیار ہیں ۔وفاق اور پاک فوج کا مکمل تعاون حاصل رہا ۔لا پتہ افراد کا مسئلہ مکمل طور پر حل کرنے میں ناکام رہے،لیکن پھر بھی بڑی تعداد میں لا پتہ افراد کو بازیاب کرایا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آج بھی بارہ ہزار سے زائد ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں کوئی اسکول نہیں ۔اگر آئندہ دس سالوں کے دوران بلوچستان میں نئے ڈیم کی تعمیر نہ کی گئی تو پھر وسیع پیمانے پر نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ سوموار کو وزارت اعلیٰ سے الگ ہو نا چاہتے تھے تاہم وزیر اعظم نواز شریف نے خواجہ سعد رفیق اور فواد حسن فواد کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے ان کی وطن واپسی تک ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان کام جاری رکھیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ان کی جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اکثریت نہ ہونے کے باوجود صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا ۔بہت سے لوگوں کی خواہش تھی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ بطور وزیر اعلیٰ کام جاری رکھیں لیکن روز اول سے معاہدہ مری پر عملدر آمد کا فیصلہ کر لیا تھاپر امن انتقال اقتدار کے زریعے نئی سیاسی روایت قائم کر رہے ہیں خواہش ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی روایات کا تسلسل جاری رہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ گریس فلی حکومت سے الگ ہو رہے ہیں۔ خواہش ہے کہ وفاق ہماری پالیسیوں کو جاری رکھے ۔پاک چین اقتصادی راہداری پر کوئی اعتراض نہیں ۔ خدشہ ہے کہ منصوبے سے کہیں بلوچستان کی ڈیموگرافی تبدیل نہ ہو جائے ۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ملنے والا موجودہ بجٹ ناکافی ہے جس کے ذریعے بلوچستان کو ڈیولپ نہیں کیا جا سکتا ۔بلوچستان کو جب تک خصوصی طور پر ٹریٹ نہیں کیا جائے گا تب تک بلوچستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ایک سوال پر میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی غیر ملکی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں