The news is by your side.

Advertisement

کرونا، کس صورت میں اینٹی ملیریا ڈرگ کے استعمال کی ضرورت نہیں؟ ماہر ڈاکٹر نے بتادیا

اسلام آباد: میو اسپتال کے ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ پلازما کا تجربہ کامیاب رہتا ہے تو اینٹی ملیریا ڈرگ کی ضرورت نہیں ہوگی، پلازما کا تجربہ بھی ابتدائی طور پر کیا جارہا نتیجہ مثبت آیا تو سود مند ہے۔

تفصیلات کے مطابق میواسپتال کے ڈاکٹر اسد اسلم نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’دی رپورٹرز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی ملیریا ڈرگ کرونا سے متاثرہ مریضوں کو شروع کرائیں، اینٹی ملیریا ڈرگ کو مخصوص لحاظ سے استعمال کررہے ہیں، اب تک 9 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں، جو مریض ڈسچارج ہوئے ان کی عمریں 20 سے 50 سال کے درمیان تھیں ۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسد اسلم نے کہا کہ کوئی بھی شخص یہ دوائی ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہیں لے سکتا، کوئی یہ سوچے کہ اینٹی ملیریا ڈرگ سے کرونا وائرس روک سکتا ہے تو غلط ہے، اس وقت ہم یہ دوائی مخصوص لیول پر مخصوص مریضوں پر استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اینٹی ملیریا ڈرگ پورے پنجاب میں استعمال کی اجازت دی ہے، میواسپتال میں یہ دوا استعمال کی جس کا تجربہ مثبت رہا، اینٹی ملیریا ڈرگ کے سائیڈ ایکفکیٹس بھی ہیں، یہ دوا تجرباتی بنیادوں پر استعمال کررہے ہیں۔

ڈاکٹر اسد اسلم نے کہا کہ صوبوں کے اتھ بھی اپنا تجربہ شیئر کیا، چینی میڈیکل ٹیم سے بھی مشاورت کی گئی، کوئی مریض تشویشناک حالت اسٹیج میں نہیں تھا جنہیں یہ دوا استعمال کرائی گئی ہو، ایک مریض تو ایسا تھا جس کی علامات بھی ظاہر نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں ہمارے پاس زیادہ تر نوجوان مریضوں کی تعداد ہے، نوجوانوں کے زیادہ آنے کی وجہ احتیاط نہ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق مریض سیلف کورنٹائن ہوتا ہے تو اچھا آپشن ہے لیکن لوگ ایسا کرتے نہیں ہیں، مجبوری میں مریض کو اسپتال میں سیلف کورنٹائن میں لے جاتے ہیں، قرنطینہ کے اچھے نتائج آرہے ہیں اس لیے وائرس تیزی سے نہیں پھیلا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں