The news is by your side.

Advertisement

ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس : مرکزی ملزمان کا ڈی این اے پولیس کے لیے چیلنج بن گیا

کراچی : ڈاکٹر ماہا شاہ مبینہ خودکشی کیس میں مرکزی ملزمان کا ڈی این اے پولیس کے لیے چیلنج بن گیا، عدالت نے ملزمان کو ڈی این اے کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے تفتیشی افسرکوچالان کیلئےایک بارپھر5روزکی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ماہاشاہ مبینہ خودکشی کیس کی جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ میں سماعت ہوئی ، سماعت میں تفتیشی افسر نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی، جس میں بتایا گیا کہ زیرضمانت ملزم وقاراورجنید ڈی این اے کے لئے پیش نہیں ہوئے۔

تفتیشی افسر نے ملزمان کیخلاف عدالت سے حکم جاری کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ملزمان کاڈی این اےنہ ہونےسےحتمی چالان پیش نہیں کیاجاسکتا، عدالت ملزمان سے متعلق اپنا حکم جاری کرے۔

عدالت نے ملزمان کو ڈی این اے کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو چالان کیلئےایک بارپھر5روزکی مہلت دے دی۔

یاد رہے دسمبر 2020 میں مبینہ طور پر خود کشی کرنے والے ڈاکٹر ماہا کیس میں حقائق جاننے کے لئے میرپور خاص میں ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کی گئی، میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر ماہا کا پوسٹ مارٹم کیا۔

تفتیشی حکام نے کیس کو نئے رخ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ خود کشی سے پہلے ڈاکٹر ماہا سے مبینہ طور پر زیادتی کی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک مرد کے ڈی این اے کا پتہ لگایا گیا ہے، اسی تناظر میں حکام نے کیس میں گرفتار سات ملزمان کا ڈی این اے لینے کا فیصلہ کیا، دو ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیا جاچکا ہے تاہم ڈاکٹر جنید نے ڈی این اے سیمپل نہیں دیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق جنید و دیگر ملزمان کے ڈی این اے سیمپل کیلئے عدالت کو خط لکھیں گے، ملزمان کے ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کرانا ہوگا اور ملزمان کیخلاف مقدمے میں زیادتی کے سیکشن رپورٹ کےبعد شامل کئے جائیں گے۔

خیال رہے 18 اگست کو ڈاکٹر ماہا شاہ نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی، انہیں زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں