The news is by your side.

Advertisement

بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ وطن واپس لوٹ گئیں

لاہور: اسلام آباد ہائیکورٹ سے اجازت ملنے کے بعد بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمیٰ واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت روانہ ہوگئیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ کو اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے رخصت کیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ کی پاکستانی شخص طاہر سے پسند کی مبینہ شادی کے تنازعہ کے بعد ڈاکٹر عظمی واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس لوٹ گئیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ کو اسلام آباد میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے رخصت کیا۔

اس سے قبل گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی خاتون عظمیٰ کی درخواستوں کی سماعت کی تھی جس میں انہوں نے عظمیٰ کو بھارت جانے کی اجازت دے دی تھی۔

 یاد رہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر بونیر کے رہائشی طاہر علی کی دوستی ملائیشیا میں ہوئی تھی جو محبت میں بدل گئی۔ کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر عظمیٰ، طاہر سے شادی کرنے کے لیے واہگہ بارڈر سے پاکستان پہنچیں جس کے بعد دونوں کا نکاح انجام پایا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی شہری نے گن پوائنٹ پر نکاح کیا: بھارتی خاتون کا الزام

دو روز بعد ڈاکٹر عظمیٰ طاہر کے بھارتی ویزے کی درخواست لیے 2 روز بھارتی ہائی کمیشن گئیں جہاں سے وہ منظر سے غائب ہوگئیں۔

تاہم اگلے ہی دن وہ منظر عام پر آگئیں اور انہوں نے اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا کہ ان سے گن پوائنٹ پر نکاح کروایا گیا۔

مقامی عدالت میں درخواست دائر کرنے کے بعد انہوں نے مبینہ شوہر پر گن پوانئٹ پر نکاح کے ساتھ ساتھ زیادتی اور تشدد کا الزام بھی لگا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طاہر نشہ آور ادویات دے کر واہگہ بارڈر سے پاکستان لایا۔

ان کے مطابق وہ بہت مشکل سے ہائی کمیشن پہنچی ہیں اور یہاں پہنچ کر انہوں نے پناہ لے لی، اب وہ دہلی جانے تک یہیں رہیں گی۔

بعد ازاں ان دونوں کے نکاح کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی جس میں ڈاکٹر عظمیٰ کو بخوشی اور پورے ہوش و حواس کے ساتھ نکاح کے لیے ہامی بھرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی ڈاکٹر عظمیٰ کے نکاح کی ویڈیو سامنے آگئی

دوسری جانب ڈاکٹر عظمیٰ کے شوہر طاہر علی نے مؤقف اختیار کیا کہ عظمیٰ نے اپنی مرضی سے شادی کی اور وہ اب جھوٹ بول رہی ہے۔ طاہر کا کہنا تھا کہ عظمیٰ کو شادی سے قبل ہی معلوم تھا کہ وہ شادی شدہ ہے۔

بعد ازاں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ عظمیٰ خود بھی طلاق یافتہ ہے اور اس کی ایک بچی بھی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں