The news is by your side.

Advertisement

کیا ڈرائیونگ کے انداز سے الزائمر کا پتا لگایا جانا ممکن ہے؟ محققین کی حیران کن ریسرچ

ٹورنٹو: کینیڈا میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محققین نے ایک ریسرچ کے بعد کہا ہے کہ ڈرائیونگ کے انداز سے لوگوں میں الزائمر کی بیماری کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق عمر کے ساتھ ساتھ لوگوں کا ڈرائیونگ کا انداز بھی بدل جاتا ہے، جو کہ الزائمر کی بیماری کے ابتدائی مراحل کا پتا لگانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ الزائمر کی علامات ظاہر ہونے سے 20 سال قبل ہی بیماری شروع ہو جاتی ہے۔

اس سلسلے میں واشنگٹن میں 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو تحقیق میں شامل کیا گیا، یہ افراد اس بات کے لیے راضی ہوئے کہ تحقیق کے لیے ان کی ڈرائیونگ کی نگرانی کی جائے، محققین نے یہ جاننا چاہا کہ کیا صرف اس گروپ کی ڈرائیونگ عادات کا مطالعہ کر کے اس بیماری کو ابتدائی مراحل میں پتہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

سائنس دانوں نے تحقیق میں شامل افراد کی گاڑیوں میں جی پی ایس لوکیشن ٹریکر نصب کیا، اور ایک سال تک معلومات جمع کرنے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ مہنگے طبی طریقہ کار کے بغیر بیماری کا پتا لگانا ممکن ہے۔

اس مطالعے میں شامل 139 افراد کے طبی ٹیسٹ پہلے ہی ظاہر کر چکے تھے کہ ان میں سے نصف کو پری کلینیکل الزائمر کی بیماری ہے، باقی آدھے لوگوں میں الزائمر شناخت نہیں ہوئی تھی، محققین نے ان کو دو گروپس میں تقسیم کر کے ان کی عادات کا مطالعہ کیا۔

محققین نے دیکھا کہ تحقیق میں شامل افراد کے گاڑی چلانے کے انداز میں واضح فرق ہے، الزائمر کی بیماری سے متاثرہ لوگ آہستہ گاڑی چلاتے ہیں اور رات کو کم سفر کرتے ہیں، جی پی ایس ٹریکرز نے ان کی نقل و حرکت کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ ایک تو زیادہ ڈرائیونگ نہیں کرتے اور دوم یہ کہ شارٹ کٹس کا استعمال کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں