The news is by your side.

Advertisement

ڈرون حملے میں ہلاک افغانیوں کے لواحقین کا امریکہ سے بڑا مطالبہ

کابل میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے لواحقین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا اور متاثرین کو مالی معاوضہ دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملہ پر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے معافی مانگنے کے بعد متاثرین نے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن خاندانوں کے 10 افراد ہلاک ہوگئے ہوں ان کے لیے صرف معذرت کافی نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ تحقیقات کرکے حملے کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دے اور متاثرین کو مالی معاوضہ دینے کے ساتھ کسی محفوظ ملک میں منتقل کریں۔

اس حوالے سے ایمل احمدی نامی شخص جس کی 3 سالہ بیٹی ملیکا بھی اس امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوگئی تھی ہفتہ کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہمارا خاندان امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحقیقات کرکے حملے کے ذمہ دار فوجی اہلکاروں کو سزا دیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے خاندان کے 10 افراد کو کھو دیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پوری دنیا بھی ہمیں دے رہا ہے تو کوئی بھی ان میں سے واپس نہیں آئے گا، میں یو ایس اے سے چاہتا ہوں کہ وہ ہمارے لیے مالی معاوضہ ادا کرے اور وہ ہمیں بیرون ملک کسی محفوظ ملک میں منتقل کریں کیونکہ ہمیں یہاں بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعلیٰ جنرل، جنرل فرینک میکینزی نے جمعہ کے روز پریس بریفنگ کے دروان کہا تھا کہ کابل میں ہونے والے ڈرون حملے کے بارے میں امریکی فوجی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جس گاڑی پر حملہ ہوا تھا اور جو بھی لوگ اس میں جاں بحق ہوئے تھے وہ داعش کے شدت پسند نہیں تھے اور نہ ہی ان سے کابل ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوجیوں کو براہ راست کوئی خطرہ تھا۔

میکینزی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ حملہ ایک غلطی تھی، اس لیے ہم معذرت خواں ہیں اور امریکہ متاثرین کے خاندان کو معاوضہ کی ادائیگی کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی ڈرون حملے کے متاثرین نے اپنے خاندان کے دس افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ سے معافی مانگنے اور خاندان کو دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کابل ڈرون حملے کے لیے امریکہ نے معافی مانگیڈرون حملے میں ہلاک زمری احمدی کے بھائی ایمل احمدی کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی درحقیقت ایک امریکی امدادی گروپ نیوٹریشن اینڈ ایجوکیشن انٹرنیشنل کا ملازم تھا جو افغانستان میں قلت غذائیت کے خاتمے کے لیے کام کر رہا تھا اور امیگریشن کے مختلف پروگرامز کے تحت امریکہ جانے کاخواہش مند تھا اس نے امریکہ میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے درخواست بھی دی تھی۔

واضح رہے کہ یہ جان لیوا حملہ افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

یہ حملہ 29 اگست کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ حامد کرزئی کے قریب امریکی شہریوں کے انخلا اور افغانستان سے فوجی انخلا کے آخری دنوں میں افراتفری کے دوران کیا گیا تھا۔

امریکی فوج نے اُس وقت دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے نے متعدد خودکش حملہ آوروں کو حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کرنے سے روک دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں