The news is by your side.

Advertisement

ڈرون حملہ : امریکی سفیرکی دفتر خارجہ میں طلبی، پاکستان کا احتجاج

اسلام آباد : پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ کرنے پر پاکستان نے اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔ پیپلزپارٹی نے حملے کیخلاف سینیٹ میں تحریک التوا جمع کرادی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی حدود میں ڈرون حملے پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفترخارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹ میں تحریک التوا جمع کرادی گئی جبکہ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں بھی مذمتی قرارداد منظورکرلی گئی۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے مثبت نتائج مرتب نہیں ہوں گے وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے بھی امریکی سفیر سے ملاقات میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

طارق فاطمی کا کہناتھا کہ ایسے اقدام سے 4 فریقی رابطہ گروپ کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا ،ڈرون حملہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر منفی اثر ڈالے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کیخلاف تعاون جاری رہنا چاہئیے۔

علاوہ ازیں آج سینیٹ میں بھی امریکی ڈرون حملے کی گونج رہی۔ پیپلز پارٹی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحریک التواء جمع کرادی ۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے اسے سینیٹ میں زیر بحث لایا جائے۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کی گئی مذمتی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی ڈرون حملے ملکی سلامتی اور خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل بلوچستان کے علاقے میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے مبینہ ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے لیکن دوسری جانب امریکہ اور افغانستان نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں