The news is by your side.

Advertisement

’دعا کو اغوا نہیں کیا گیا وہ اپنی مرضی سے گئی‘ پولیس کا دعویٰ

کراچی کے علاقے الفلاح سے مبینہ طور پر اغوا کی گئی 14 سالہ لڑکی دعا زہرہ چار دن بعد بھی بازیاب نہیں ہوسکی لیکن تحقیقات کے دوران پولیس کو اہم شواہد مل گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دعا زہرہ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے، دعا کے گھر کے اطراف لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سے اہم شواہد ملے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ فوٹیج میں دعا اپنی مرضی سے سوزوکی میں جاتی دیکھی گئی ہے، فوٹیج دعا کے والد کو دکھائی گئی لیکن انہوں نےکہا کہ یہ دعا نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فوٹیج پڑوسیوں کو دکھائی انہوں نے تصدیق کی یہ بچی دعا ہی ہے، لڑکی کے والد کے بھی متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں، والد کا کہنا تھا بچی ڈیڑھ سال سے اسکول نہیں گئی، ساتویں جماعت کی طالبہ تھی، تحقیقات میں پتہ چلا دعا تیسری جماعت سے اسکول ہی نہیں گئی۔

مزید پڑھیں: دعا زہرہ کی بازیابی کے لیے پولیس کا چھاپہ، ایک اور لڑکی بازیاب

تفتیشی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے نجی اسکول کے پرنسپل، ساتھی طالبات سے بھی معلومات لیں، گھر میں لگے انٹرنیٹ ڈیوائس سے بھی اہم شواہد ملے ہیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ کورٹ میرج اور پسند کی شادی سے متعلق سرچ ہسٹری ملی ہے، سانگھڑ میں چھاپے کے دوران ملنے والی بچی اولڈ سٹی ایریا سے اغوا ہوئی تھی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ چھاپے کے بعد ملنے والی بچی بھی اپنی مرضی سے گئی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں