The news is by your side.

Advertisement

زمین، انسان اور موت کی کہانی

تحریر: سید امجد حسین بخاری

کرونا سے متعلق عام رائے یہی ہے کہ یہ وائرس انسانیت کی موت کا پیغام ثابت ہورہا ہے، لیکن غور کریں تو معلوم گا کہ تین ماہ گزرنے کے بعد کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار تک پہنچی ہے۔

اگر اس تعداد کو دو لاکھ بھی فرض کرلیں تو ماہانہ 67 ہزار جانیں ضایع ہوئیں اور اگر وبا کی شدت برقرار رہتی ہے تو ایک سال کے دوران کم از کم 8 لاکھ افراد اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں، لیکن جب ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کی بات کریں تو اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 70 لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جب کہ عالمی معیشت کو سالانہ 50 کھرب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ گزشتہ برس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف آبی آلودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث سالانہ 14 لاکھ انسانی جانیں ضایع ہورہی ہیں۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تو کوششیں جاری ہیں، لیکن دنیا بھر میں انسانی جانوں کے لیے سب سے زیادہ خطرہ بننے والی اس “وبا” کو کنٹرول کرنے کے لیے کب کوششیں کی جائیں گی؟

کرونا وائرس سے پہلے ہی انسان ایسی بیماریوں کا شکار ہیں، جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح ماحولیاتی آلودگی سے ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو اگلے تیس برسوں میں یعنی 2050 تک اموات کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہوگی۔

زمین کے تحفظ کے لیے دنیا نے 1970 میں کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ ان کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو ماحول کی تباہی سے روکا جائے اور اسی وقت دنیا نے زمین کا عالمی دن منانے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اب ان کوششوں کو پچاس برس مکمل ہوچکے ہیں۔

اس عرصے میں اگر ماحول کے تحفظ کی انسانی کوششوں کو دیکھا جائے تو مایوسی ہو گی۔ ترقی کے نام پر دنیا بھر میں زمین کو برباد کیا جارہا ہے۔ ترقی کا خواہش مند انسان زمین کے وسائل کا بے دریغ اور بے رحمی سے استعمال کررہا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ ہوا میں اڑنے کی خواہش رکھنے والا خود ہی اپنے پَر بھی کاٹ رہا ہے۔

انسان زمین کے تحفظ کا دعوے دار ہے، وہ خود کو دھرتی کا رکھوالا سمجھتا ہے۔ زمین کے رکھوالے ہی نتائج کی پروا کیے بغیر سمندروں، میدانوں، اور فضا کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سہولت اور زیادہ منافع کی تلاش میں ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ انسانوں کو زمین پر زندہ رہنے کے لیے تازہ غذا اور ایک صحت افزا ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

انسان نے ترقی کے لیے صنعتیں لگائیں اور عالمی حدت میں اضافے کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ حضرتِ انسان نے اپنی ترقی کے لیے جنگلات کو بھی نہیں بخشا اور پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں صرف 4 فی صد رقبے پر جنگلات رہ گئے ہیں۔ اسی طرح رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے سوچے سمجھے بغیر تعمیرات کے باعث زرعی زمین بھی کم ہوگئی ہے۔

دنیا ایک بار پھر زمین کا عالمی دن منارہی ہے، یہ دن اس دھرتی سے عہدِ وفا نبھانے کا ہے۔ اس دھرتی سے جس کی چھاتی پر انسان کوئلہ سلگا کر خود بھی جل رہا ہے اور اسے بھی تکلیف دے رہا ہے۔ جس کی مٹی میں انسان بیج بوتا ہے اور اس زمین کی کوکھ سے پودے اگتے ہیں، یہ پودے انسان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔

آئیے آج عہد کریں کہ ہم اس کرہ ارض کی مرمت کریں گے، اس کے گرد موجود اوزون کی حفاظتی تہ کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ اپنی زمین سے وعدہ کریں کہ اس کے سینے پر اب آگ نہیں جلنے دیں گے بلکہ یہاں پھول کھلائیں گے۔ دھوئیں کے بجائے یہاں پھول مہکیں گے۔ اس لاک ڈاؤن کو زمین کی مرمت کا ذریعہ بنائیں، اسے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ جان لیں کہ اگر آج ہم نے اپنی دھرتی کو محفوظ نہ بنایا تو ہماری نسلوں کو اس کا خراج ادا کرنا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں