site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

‘زمین ایک نگینہ ہے’

زمین پر رہتے ہوئے شاید ہمیں اس کی قدر و قیمت کا اندازہ نہ ہوتا ہو، مگر اس کی صحیح اہمیت وہ خلا باز جانتا ہے جو طویل عرصے تک زمین سے دور خلا میں رہے اور زمین کو دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرے۔

تھامس پسکٹ نامی فرانسیسی سائنسدان گزشتہ 6 ماہ سے خلا میں موجود ہے اور اس دوران خلا سے لاتعداد زاویوں سے زمین کو دیکھ چکا ہے۔ اپنے گھر اور اپنی زمین سے دور رہنے کے بعد تھامس کا کہنا ہے، ’زمین حقیقی معنوں میں ایک نگینہ ہے‘۔

وہ کہتا ہے کہ جب وہ زمین سے دور ہوا، اور اس نے ایک عظیم فاصلے سے زمین کو دیکھا، تب اس پر ادراک ہوا کہ زمین کتنی خوبصورت اور حسین ہے۔ ’یہ خلا سے کسی نگینے کی طرح نظر آتی ہے‘۔

تھامس اس وقت ایک روسی خلاباز اولیگ نووٹسکی اور امریکی خلاباز پیگی وائٹ سن کے ساتھ 6 ماہ طویل ایک مشن پر عالمی خلائی اسٹیشن پر موجود ہے۔

یاد رہے کہ پیگی وائٹ سن کو خلا میں سب سے زیادہ وقت گزارنے والی خلا باز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اس مشن کے دوران ان خلا بازوں نے نہ صرف کئی نئی تحقیقات کیں، اور اہم ڈیٹا ناسا کو روانہ کیا، بلکہ اس دوران انہوں نے زمین کی مختلف زاویوں سے بے شمار تصاویر بھی کھینچیں جو نہایت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں۔

تھامس اور ان کا یہ مشن رواں ہفتے جمعہ کے دن اختتام کو پہنچ جائے گا جس کے بعد وہ زمین پر واپس آجائیں گے۔

چھ ماہ تک خلا میں رہنے کے بعد اب وہ یہاں سے جاتے ہوئے کچھ اداس تو ہیں، تاہم انہیں اپنے گھر واپسی اور اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی بھی ہے۔

خلا سے دیے گئے ایک انٹرویو میں تھامس کا کہنا تھا، ’میں پھر سے اپنے پیاروں سے ملنا چاہتا ہوں، ساحل پر جانا چاہتا ہوں، پہاڑوں کے درمیان چہل قدمی کرنا چاہتا ہوں اور ٹھنڈی ہوا کو اپنے چہرے پر محسوس کرنا چاہتا ہوں‘۔

تھامس کا کہنا ہے، ’میرا سوٹ کیس تیار ہے۔ میں زمین پر واپس جاتے ہوئے اداس بھی ہوں اور پرجوش بھی‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top