عام طور پر نزلہ زکام اور کھانسی کی وجہ سے عوامی مقامات مثلاً دفتر ٹرین یا بازاروں میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کیلیے ان تین پھلوں کے استعمال سے اس مسئلے سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
انسان کیلیے قدرت نے پھلوں میں تمام ضروری غذائی اجزاء رکھے ہیں، ہر پھل کی اپنی افادیت ہے، چنانچہ تندرستی کے لیے پھل کھانے کی عادت ڈالنا ضروری ہے، بصورت دیگر ہم میں سے بیشتر لوگ ہر دوسرے مہینے کسی نہ کسی وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔
زیر نظر مضمون میں ایسے خاص تین پھلوں کی افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جارہا ہے جن کے استعمال سے نزلہ زکام کے حملے سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ہم تین وٹامن سی سے بھرپور تین پھلوں کو کھانے کی عادت بنا لیں تو ان بیماریوں کو خود سے دور رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔
مالٹا :
ماہرین صحت کے مطابق وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے، ایک درمیانے سائز کا مالٹا تقریباً 70 ملی گرام وٹامن سی فراہم کرتا ہے جو بالغ افراد کے لیے تجویز کردہ یومیہ مقدار سے زیادہ ہے۔”
یہ پھل سفید خون کے خلیے (وائٹ سیلز) میں اضافہ کرتا ہے جو انفیکشن سے لڑتے ہیں، جلد کی بیرونی حفاظتی تہہ کو مضبوط کرتا ہے، جو بیماریوں کے خلاف جسم کی پہلی دفاعی لائن ہوتی ہے، اس کے علاوہ مالٹا پانی کی مقدار زیادہ رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔
کیوی :
یہ حیران کن طور پر فائدہ مند پھل ہے جو مالٹے سے زیادہ تقریباً 90 ملی گرام وٹامن سی فراہم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس، پوٹاشیم اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔
ماہر صحت کے مطابق کیوی نہ صرف فوری مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے بلکہ آنتوں کی صحت کے لیے بھی بہترین ہے چونکہ جسم کے زیادہ تر مدافعتی خلیے آنتوں میں پائے جاتے ہیں،
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیوی خاص طور پر بچوں اور معمر افراد میں سانس کی بیماریوں کے امکانات کو کم کرتا ہے جنہیں زیادہ بیمار پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اسٹرابیری :
اسٹرابیری کو عام طور پر گرمیوں کی سوغات سمجھا جاتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ غذائیت سے بھرپور پھل بھی ہے۔ صرف ایک مٹھی بھر اسٹرابیری (تقریباً آٹھ دانے) میں 85 ملی گرام وٹامن سی ہوتا ہے۔
اسٹرابیری میں موجود پولی فینولز وٹامن سی کے ساتھ مل کر جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس (یعنی فری ریڈیکلز کا نقصان) کم کرتے ہیں، جس سے انفیکشن سے جلد صحت یابی ممکن ہوتی ہے اور مدافعتی نظام کو تقویت ملتی ہے۔