The news is by your side.

Advertisement

عمران خان حکومت کی معاشی کارکردگی، تجارتی خسارہ سرپلس میں تبدیل

اسلام آباد: عمران خان کی حکومت نے معاشی کارکردگی میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جب کہ تجارتی خسارہ بھی سرپلس میں تبدیل ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، دوسری طرف تجارتی خسارے میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ لگاتار پانچویں مہینے بھی سرپلس رہا، نومبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 447 ملین ڈالر ریکارڈ کیاگیا، جب کہ جولائی تا نومبر کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا حجم ایک ارب 64 کروڑ ڈالر سے زائد رہا، گزشتہ مالی سال تقریباً پونے 2 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا۔

پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی 3 سال کی بلند ترین سطح پر آ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2020 جہاں کرونا وبا کے باعث دنیا بھر کے لیے غیر یقینی ثابت ہوا وہیں پاکستان کے لیے معاشی سست روی کے باوجود کئی خوش خبریاں لایا، ترسیلات زر 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری 9 فیصد بڑھ گئی، جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ 17 سال بعد سرپلس میں آگیا۔

تجارتی خسارہ بھی سرپلس میں تبدیل ہو گیا ہے، معاشی اعتبار سے ہر جانب سے حکومتی اقدامات کے بہترین نتائج سامنے آئے، کرونا کی پہلی لہر پر قابو پاتے ہی معیشت میں بحالی آئی، صنعتوں، برآمدی سیکٹر کے لیے حکومتی مراعات سے بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

بڑے پیمانے پر برآمدی آرڈر کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر مکمل استعداد پر کام کر رہا ہے، سیمنٹ سیکٹر میں 20 فی صد اضافہ ہوا، بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار ساڑھے 4 فی صد بڑھ گئی۔

موڈیز نے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم قرار دیا، عالمی بینک کے ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں بھی پاکستان کی رینکنگ 147 سے بڑھ کر 108 پر آ گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں