اسلام آباد : سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ایک ماہ کے زد مبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں۔
یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت عالمی اداروں کی شدید مدد کی ضرورت ہے۔
شوکت ترین کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف بھی پیچھے ہٹ رہا ہے، مسائل سے تو ہم آگاہ کرتے جارہے ہیں لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں۔
سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان مسائل سے مک کو کیسے نکالنا ہے ہم حل بھی بتارہے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 12 اگست تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب 61 کروڑ ڈالر رہے۔
یاد رہے کہ چوبیس نومبر 2022 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 134 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اُس وقت مرکزی بینک کے ذخائر 7 ارب 82 کروڑ جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 ارب 81 کروڑ ڈالر تھے، جبکہ ملک کے مجموعی ذخائر 13 ارب 64 کروڑ ڈالر تھے۔