The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن کے 2 ممبران کی تقرری : شہباز شریف کا وزیراعظم عمران خان کو خط

اسلام آباد : الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کےخط کے جواب میں شہباز شریف نے بھی خط لکھ دیا، خط میں آئین کےمختلف آرٹیکل کی خلاف ورزی کاحوالہ دیاگیاہے جبکہ شہبازشریف نے دونوں نشستوں کے لیے 3 ، 3 نام تجویزکردیئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر خط کا جواب بھجوایا دیا، شہبازشریف نےخط میں عمران خان کوڈیئرپرائم منسٹرکےالفاظ سےمخاطب کیا اور السلام علیکم سے بات کا آغاز کیا۔

خط سات صفحات پر مشتمل ہے، پیرا دو سے پانچ تک کا شوق وار جواب دیاگیا ہے، اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ عدالتی فیصلے کے مطابق سنجیدگی، اخلاص اور سچی کوشش سے اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

ذرائع کے مطابق شہبازشریف کے خط میں انتہائی احترام لیکن مضبوطی قانونی دلیلوں سے وزیراعظم کو جواب دیا گیا، خط میں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ یکم فروری کو خط وزیرخارجہ کی طرف سے نہیں بلکہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی طرف سے بھجوایا گیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ یہ خط آئین کی خلاف ورزی ہے، آرٹیکل 213 دو اے کی تشریح کی روشنی میں اسے ’مشاورت‘ نہیں کہا جاسکتا ۔

شہباز شریف کا کہنا تھا وزارت خارجہ سے بھجوائے جانے والے خط میں متعلقہ آئینی شقوں کا حوالہ بھی نہیں دیاگیا، خط میں وزیراعظم کے تجویز کردہ ناموں کا بھی ذکر نہیں اور خط میں یہ بھی نہیں بتایاگیا کہ وزیراعظم نے وزیرخارجہ یا وزارت خارجہ کو اختیار تفویض کیاہے۔

خط میں کہا گیا دستور کے تقاضے کے تحت مشاورت کسی اور ذریعے سے نہیں کی جاسکتی ، اس عمل سے نظریں چرانا آئینی شقوں کا احترام نہ کرنے اور انہیں نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ کے خط میں دئیے گئے ہیں، چھ نام آپ کے سیکریٹری کے خط میں دئیے گئے ناموں سے مختلف ہیں ۔خط میں کہاگیاکہ مطلوبہ تیاری، غور اور اشتراک عمل کا نہ ہونا اس امر کا بین ثبوت ہے ۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ کے سیکریٹری کے خط میں تحریر ہے کہ وزیراعظم نے اپنی فہرست پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی ہے، یہ خط آئین کے آرٹیکل 213 دواے کی خلاف ورزی ہے، یہ نام صرف اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کے بعد ہی بھجوائے جاسکتے ہیں، دونوں خطوط واپس لینے سے محسوس ہوتا ہے کہ درست قانونی پوزیشن تسلیم کرلی گئی ۔

مزید پڑھیں : الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے وزیر اعظم کا شہباز شریف کو خط

انھوں نے کہا ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ 213 دو اے کے بمطابق زبانی یا تحریری رابطہ کے ذریعے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ذاتی شمولیت لازمی ہے اور عدالت عظمی کے فیصلوں سے بھی یہی رہنمائی ملتی ہے۔

خط میں شہبازشریف نے دونوں نشستوں کےلیے 3،3 نام تجویز کردیئے، بلوچستان کی نشست کیلئے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شاہ محمد جتوئی ، ریٹائرڈچیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمدنورمسکن زئی اور سابق ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان محمدرؤف عطاکے نام تجویز کیے گئے ہیں‌۔

اپوزیشن لیڈر نے سندھ کیلئے جسٹس(ر)عبدالرسول میمن، خالدجاویدایڈووکیٹ اور جسٹس ریٹائرڈنور الحق قریشی کابھجوائے۔

شہبازشریف کے خط کے ساتھ مجوزہ افراد کے سی ویز بھی بھجوائے گئے ہیں ۔ خط میں کہاگیاکہ ہمیں معزز عدالت عظمی کے فیصلوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں