The news is by your side.

Advertisement

25 جولائی کو کون سے کام ’جرائم‘ میں شمار ہوں گے؟

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹرز، پارٹیوں اور افسران کو مطلع کیا ہے کہ ووٹنگ کے دن کون سے ’کام‘ جرائم میں شمار ہوں گے جن سے اجتناب برتا جائے۔

تفصیلات کے مطابق ای سی پی نے ایسے ’جرائم‘ کی نشان دہی کر دی ہے جو پچیس جولائی کو ضلعی ریٹرننگ افسران کی عمل داری میں آئیں گے۔

مندرجہ ذیل ’کام‘ ای سی پی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

  • ووٹر کو پولنگ اسٹیشن سے نکالنا
  • ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے سے متعلق ووٹر کے فیصلے پر براہ راست یا بالواسطہ اثر انداز ہونا
  • ووٹر کو تحفہ دینا، کوئی پیش کش کرنا یا وعدہ کرنا رشوت سمجھی جائے گی
  • ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کے لیے کسی کو طاقت یا تشدد سے مجبور کرنا
  • کسی کو کسی مذہبی شخصیت کے غصے یا رضا کے ذریعے دھمکانا، یا نقصان یا دھمکی کا باعث بننا
  • کسی ووٹر کو اغوا کرنا یا غیر قانونی ذرائع سے کسی کو متاثر کرنا یا دھوکا دینا یا اس پر اثر انداز ہونا
  • بیلٹ پیپر یا سرکاری اسٹامپ خراب کرنا
  • بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن سے لے جانا یا بیلٹ باکس میں جعلی بیلٹ پیپر ڈالنا
  • کسی کو بغیر اجازت بیلٹ پیپر فراہم کرنا، بیلٹ پیپرز یا باکسز اٹھانا، بیلٹ باکس کی سیل توڑنا
  • پولنگ اسٹاف کو پریشان کرنا، کسی سرکاری ملازم کی مدد سے پولنگ کے عمل کو متاثر کرنا
  • جعلی ووٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش، یا متعدد ووٹ ڈالنا
  • پولنگ کے عمل کے دوران آتشیں اسلحہ رکھنا یا دکھانا، عملے پر تشدد کرنا
  • پولنگ اسٹیشن کے قریب رکاوٹ پیدا کرنا تاکہ ووٹرز پریشان ہو جائیں
  • پریزائڈنگ آفسر یا دیگر عملے کے کام میں مداخلت کرنا
  • پولنگ اسٹیشن کے 400 میٹر کے اندر کسی ووٹر کو کسی خاص امیدوار کے لیے ووٹ ڈالنے پر مائل کرنا
  • پولنگ اسٹیشن کے 100 میٹر علاقے کے اندر یا الیکشن ایجنٹس کے لیے مختص جگہ میں کوئی نوٹس، انتخابی نشان یا جھنڈا لگانا
  • یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ ووٹر نے کس کو ووٹ ڈالا
  • اپنے ووٹ یا بیلٹ پیپر کی تصویر اتارنا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق مندرجہ ذیل جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف ایک ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر یا سیشن جج ایکشن لے کر انھیں تین سال قید کی سزا یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دے سکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں