site
stats
پاکستان

توہین عدالت کیس ، عمران خان نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

اسلام آباد: توہینِ عدالت کیس پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے عمران خان نےمعافی مانگ لی، الیکشن کمیشن نے  معافی قبول کرتے ہوئے معاملہ نمٹادیا، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ 20ستمبرکوعمران خان کے ریمارکس کامعاملہ باقی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت کی، عمران خان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ، جہانگیرترین، فواد چوہدری اور شفقت محمود بھی ان کے ہمراہ تھے۔

کپتان کی پیشی کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی الیکشن کمیشن آفس کے باہر موجود تھی۔

سماعت کے دوران بابر اعوان نےعمران خان کی جانب سے اداروں کےاحترام کےثبوت پیش کئے اورعمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کرنےکی استدعا کی، جس پر ممبرکمیشن ارشاد قیصر نے سوال کیا کہ ’کیا آپ نے غیر مشروط معافی مانگی ہے؟‘۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم اس پر جواب جمع کرا چکے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ’کیا توہین آمیزالفاظ بھی واپس لئےجاسکتے ہیں؟‘، بابراعوان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلےعدالتیں اس طرح کے کیسز پر کارروائی ختم کرچکی ہے جبکہ بابراعوان نے خیبرپختونخوا کے چیف جسٹس کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسےمعاملات نظرِثانی درخواستوں میں پیش ہوتےہیں، جس پربابر اعوان نے کہا کہ ہم نے تین بار معافی مانگی ہے اسے قبول کیا جائے، الیکشن کمیشن کے احکامات معطل ہونے کے باوجود پیش ہوئے۔


مزید پڑھیں: عمران خان نےالیکشن کمیشن کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کردئیے


اکبر ایس بابر کے وکیل نے معافی پر5نکات سامنے رکھ دیئے، وکیل احمد حسن نے کہا کہ ملزم کو احساس ہونا چاہئےکہ توہین عدالت کی ہے، معافی مخلصانہ ہونی چاہئے،کیا ملزم نے معافی مانگی ؟ کیاملزم کی معافی قانونی تقاضے پوری کررہی ہے، عمران خان کاشوکازنوٹس میں الزامات پرجواب دیناضروری ہے، عمران خان ایک بارنہیں کئی بارتوہین عدالت کر چکےہیں۔

وکیل احمد حسن نے دلائل میں مزید کہا کہ اداروں کااحترام ایسےنہیں ہوتا،توہین عدالت کاقانون واضح ہے، شوکاز نوٹس پرعدالت کے سامنے پیش ہونا ضروری ہے، عمران خان کےجمع کرائے گئے‘ جواب کی کاپی ہمیں نہیں ملی، معافی نہ مانگنے پر سزا ملنی چاہئے۔

عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ توہین عدالت سےمتعلق نیاقانون وضع نہیں کرنا چاہئے، پیش ہوکرمعذرت کر رہے ہیں توقبول کرنی چاہئے۔

چیف الیکشن کشمنرنے بابراعوان سے عمران خان کی 20 ستمبر کے الفاظ پڑھنے کا کہا تو بابراعوان نے معذرت کرتےہوئے کہا کہ اڈیالہ بھیج دیں مگرالفاظ نہیں پڑھیں گے۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان سے تحریری معافی نامہ طلب کیا توکمرہ عدالت میں ہی معافی نامہ تحریرکیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر نےفائل بابر اعوان کو دی اور بابراعوان سے عمران خان کی 20 ستمبر کے الفاظ پڑھنے کا کہا تو بابراعوان نے معذرت کرتےہوئے کہا کہ اڈیالہ بھیج دئیں مگرالفاظ نہیں پڑھیں گے، میں عمران خان کی جانب سے بولے گئے الفاظ واپس لیتا ہوں، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نہیں پڑھتے تو آپ کےمخالف وکیل سے پڑھا دیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان سے تحریری جواب طلب کر لیا اور کہا کہ معافی نامے پر عمران خان کے دستخط ہونے چاہئیں، اداروں کا کوئی احترام تو ہونا چاہئے، جس پر عمران خان کے وکلاکی جانب سےکمرہ عدالت میں معافی نامہ لکھا گیا۔


مزید پڑھیں : توہین عدالت کیس، عمران خان کےناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری


توہین عدالت کیس میں عمران خان نے معافی نامہ الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا، الیکشن کمیشن میں پیش کیے گئے معافی نامے پرالیکشن کمیشن نے عدم اطمینان کا اظہارکیا۔

چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ عمران خان نے نوازاورزرداری کمیشن قراردیا تھا مافیا بھی کہا گیا معافی نہیں مانگیں گے توفرد جرم عائد کریں گے- جس پر وکلاء اوررہنماء کی مشاورت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا، جس کے بعد عمران خان نے کمرہ عدالت میں کھڑے خود روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنے ریمارکس پرمعزز بینچ سے معافی مانگی جس پرعدالت نے توہین عدالت مقدمہ نمٹا دیا۔

الیکشن کمیشن نےایک کیس میں عمران خان کامعافی نامہ قبول کرلیا اور کہا کہ 20ستمبرکوعمران خان کےریمارکس کامعاملہ باقی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے کیس کی گزشتہ سماعت پرعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور 26 اکتوبر کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا،  یہ احکامات  اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیےتھے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top