The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن نے ڈپٹی میئرکراچی ارشد وہرہ کو نا اہل قراردےدیا

کراچی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی کے ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کو ناا ہل قرار دے دیا، ان کی نا اہلی کی درخواست ایم کیو ایم پاکستان نے دائر کی تھی۔

تفصیلا کےمطابق کراچی کے ضلع وسطی کی یونین کونسل49 سے منتخب ہونے والے ارشد وہرہ اب ڈپٹی میئر نہیں رہے ہیں۔ ان کی نا اہلی پارٹی تبدیل کرنے کے سبب عمل میں لائی گئی۔

ارشد وہرہ اکتوبر 2017 میں ایم کیو ایم پاکستان چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوگئے تھے ، تاہم وہ ڈپٹی میئر ایم کیو ایم کے بلدیا تی نمائندگان کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔

ان کی نااہلی کے لیے اس وقت ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں درخواست دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بلدیاتی ایکٹ کے مطابق پارٹی بدلنے اور استعفی نہ دینے پر ارشد وہرہ کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

فاروق ستار نے نا اہلی کے لیے باقاعدہ الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا اور اس خط میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی میئر کا پارٹی تبدیل کرنا الیکشن کمیشن کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے۔ قانون کے مطابق پارٹی چھوڑنے پر شخص عہدہ رکھنے کا اہل نہیں ہے۔

اکتوبر 2017 میں ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما اور ڈپٹی میئر کراچی ارشدہ وہرہ نے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم شہریوں کے لیے جو کرسکتے تھے وہ سب کچھ نہیں کیا جس کے لیے میں عوام سے معافی مانگتا ہوں، محدود اختیارات اور وسائل کے ساتھ بھی کام کیا جاسکتا تھا۔

ان کی شمولیت کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ارشد وہرہ استعفیٰ نہیں دیں گے، انہوں نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ ہم سے اتنے لوگ رابطے کررہے ہیں کہ قانونی طور پر اپنا میئر لاسکتے ہیں۔

انہی دنوں میں میئر کراچی وسیم اختر سٹی گورنمنٹ کے ایک اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’’ ارشد وہرا کو آج بھی اپنا بھائی سمجھتا ہوں اُن پر دباؤ تھا چنانچہ جو بہتر سمجھا وہ انہوں نے کیا تاہم اگر وہ مستعفی نہیں ہوتے تو پھر قانونی طریقہ کار موجود ہے‘‘۔

پارٹی تبدیل کرنے کے بعد ارشد وہرہ کی جانب سے دیے گئے بیان ردعمل دیتے ہوئے میئر کراچی نے کہا تھا کہ اختیارات کے لیے مجھ سے زیادہ ارشد وہرا نے آواز اٹھائی لیکن تعجب کی بات ہے کہ آج وہی ارشد وہرہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ڈیلیورنہیں کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں