The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن کو ایک ہفتے میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخیں مقرر کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایک ہفتے میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخیں مقرر کرنےکا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر آپ الیکشن نہیں کرا سکتے تو مستعفی ہوجائیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں میں بلدیاتی الیکشن کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر سمیت اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی تحلیل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ موجودہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی حکومتوں کو تحلیل کردیا تھا، پنجاب کی صوبائی حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی تھا۔

اس موقع پر جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کیخلاف غیرآئینی اقدام پر کیا کارروائی کی؟،آپ آئین پر عمل نہیں کراسکتےتو صاف بتادیں، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ پنجاب حکومت نےنیا بلدیاتی قانون بنالیا ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہرباربلدیاتی انتخاب کے لیےنئے رولز بننےچاہئیں؟، اگرخیبرپختونخوا نےنئے رولز نہیں بنائےتو موجودہ رولزپر الیکشن کیوں نہیں کرائے جارہے، کیا صوبےقانون سازی موخر کرکے الیکشن کمشنر کو بے بس کرسکتےہیں؟۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےخیبرپختونخوا کو “کےپی” کہنےپر چیف الیکشن کمشنر کو جھاڑ پلادی اور ریمارکس دئیے کہ آپ آئینی عہدیدارہیں، صوبےکا نام “خیبرپختونخوا” کیوں نہیں لیتے؟، صوبے کے عوام میں نفرتیں نہ پھیلائیں۔

دوران سماعت آرٹیکل 6 کا حوالہ

سپریم کورٹ میں بلدیاتی الیکشن کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے آرٹیکل 6 کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آئین پر عمل میں رکاوٹ ڈالنے والے سنگین غداری کےمرتکب ہورہے ہیں، پنجاب،ب لوچستان آئین پر عمل نہیں کررہےتو انکے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،  لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین سے نہیں کہیں اور سےہدایات لے رہاہے۔

اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن نہیں کرا سکتے تو مستعفی ہوجائیں، جس کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ہم نے کرونا کے باوجود ضمنی انتخابات کرائے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے سخت اور اہم ریمارکس

جس پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن کرا کر آپ نے قوم پر احسان نہیں کیا، کیا ضمنی الیکشن کرانے پر قوم آپ کوخراج تحسین پیش کرے؟ الیکشن کمیشن کا وجود ہی انتخابات کروانے کے لیے ہے، قوم پر بہت ظلم ہوچکا، مزید نہیں ہونا چاہیے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایک ہفتےمیں بلدیاتی الیکشن کی تاریخیں مقرر کرنےکا حکم دیا، کیس کی سماعت میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس فائزعیسیٰ نے کہا کہ اگر ہم آئین پر عمل نہیں کرتے تو ہم اپنے دشمن خود ہیں، ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عوام میں مقبول حکومتیں بلدیاتی انتخابات فوراً کراتی ہیں جبکہ غیر مقبول حکومتیں بہانے تلاش کرتی ہیں۔

کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جمعرات کو الیکشن کمیشن میں ہوئی میٹنگ کے منٹس اور پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں