The news is by your side.

Advertisement

مسیحائے انسانیت ایدھی مر کربھی انسانیت کی خدمت کر گئے

مسیحائے انسانیت اور فخرِ پاکستان عبد الستار ایدھی کی ساری زندگی انسانیت کی خدمت کرتے گذر گئی،وہ بے گھروں کو سایہ مہیا کرتا تھا،وہ لاوارثوں کا وارث بنتا تھا وہ ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاتا تھا وہ معذروں کی بے ساکھی بنتا تھا اور بے کسوں کا والی تھا۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ اُن سے محبت کرتا تھا اور دنیا بھر میں انہیں قدر کی نظر سے دیکھا جاتا تھا وہ اب میں نہیں رہے لیکن ان کی آنکھیں دیکھتی رہیں گئی وہ اپنی آنکھیں عطیہ کر گئے تا کہ کسی نابینا شخص کی زندگی میں روشنی بن کر ہمیشہ زندہ رہیں۔

مرحوم عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالستار ایدھی کی خواہش تھی کہ وہ اپنے جسم کے اہم اعضاء عطیہ کر دیں تا ہم ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ایدھی صاحب ذیابیطس اور بلند فشار خون کے مرض میں مبتلا تھے جس کا اثر اُن کے دیگر اعضاء پر بھی پڑا ہے اس لیے ُان کے اعضاء عطیہ نہیں کیے جا سکتے تا ہم ذیابیطس و بلند فشار خون نے اُن کی آنکھوں پر کوئی منفی اثر نہیں چھوڑا تھا اس لیے اُن کی صحت مند آنکھیں عطیہ کر دی گئیں ہیں۔

چنانچہ ایدھی صاحب تو دنیا میں نہیں رہے لیکن انتقال کے بعد بھی وہ کسی کی آنکھ میں نور بن کر چکمتے رہیں گے آنکھیں عطیہ کرنے سے اُن کی آنکھیں زندہ رہیں گی اوراپنے بعد کی دنیا کو دیکھتی رہیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں