The news is by your side.

Advertisement

ایدھی ایئر ایمبولینس سروس میں جدید طیارے کا اضافہ

کراچی: عالمی شہرت یافتہ ایدھی ایئر ایمبولینس سروس میں ایک اور طیارے کا اضافہ ہوگیا ہے،طیارے کا فی گھنٹہ کرایہ پچاس ہزار روپے ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس میں آج ایک نئے سیسنا 206 طیارے کا اضافہ کیا گیا ہے، فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں طیاری مفت سروس دے گا۔

ایدھی ذرائع کا کہنا ہے کہ ساڑھے5کروڑروپےمالیت کاطیارہ جدیدآلات سےلیس ہے، اور گلاس کارپٹ پرمشتمل جنرل ایوی ایشن کایہ پہلا طیارہ ہے۔

فلاحی ادارے کی ائیرایمبولینس میں شامل ہونے والا یہ طیارہ 6سیٹرہے جس کے ذریعے دشوارگزارعلاقوں سےمریضوں کوفوری طبی امداددی جاسکےگی، اور کسی حادثے کی صورت میں فی الفور جائے وقوعہ پر پہنچنا آسان ہوگا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے روح رواں فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ عام حالات میں طیارے کا کرایہ 50 ہزار روپے فی گھنٹہ ہے ، تاہم کسی بڑے حادثے کی صورت میں ایدھی یہ سہولت عوام کو مفت مہیا کرے گا۔

ایدھی فاونڈیشن کی بنیاد کراچی میں بسنے والے عبد الستارایدھی نے ایک پرانی ایمبولینس سے رکھی تھی ، انہوں بچپن سے ہی سے کڑے وقت کا سامنا کیا، اُن کی والدہ پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے وہ ذہنی و جسمانی معذروی کا شکار ہو کر بستر سے جا لگی تھیں، جس کے بعد اس ننھے بچے نے کراچی کی سڑکوں پر اپنی ماں کے علاج کی غرض سے دردر کی ٹھوکریں کھائیں تاہم ماں کی نگہداشت کے لیے ایک بھی ادارہ نہ پایا تو سخت مایوسی میں مبتلا ہو گئے اور اکیلے ہی اپنی کا ماں کی نگہداشت میں دن ورات ایک کردیے۔

اسی ابتلاء اور پریشانی کے دور میں انہیں ایک ایسے ادارے کے قیام کا خیال آیا جو بے کسوں اور لاچار مریضوں کی دیکھ بھال کرے، اپنے اسی خواب کی تعبیر کے لیے عبد الستارایدھی نے 1951 ء میں صرف پانچ ہزار روپے سے ایک کلینک کی بنیاد رکھی، یہ کلینک کراچی کے علاقے کھارادر میں کھولا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسے کئی رفاحی کلینک کا جال پورے ملک میں پھیلا دیا۔

دوسری جانب ایدھی فاونڈیشن کی ایمبولینسس بد سے بد ترین حالت میں بھی زخمیوں اور لاشوں کو اُٹھانے سب سے پہلے پہنچ جاتی ہیں،میتوں کے سرد خانے اور غسل و تدفین کا ذمہ بھی اس محسن انسانیت نے اُٹھایا اور تعفن زدہ لاشوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دینا شروع کیا۔

عبدالستارایدھی مذہب وفرقے، رنگ و نسل اور ادنی و اعلیٰ کی تفریق کے بغیرسب کی خدمت کے لیے ہمہ وقت مگن رہتے، وہ اپنے ادارے کے لیے سڑکوں پر، گلیوں میں در در جا کر چندہ اکھٹا کرتے اور اسے انسانیت کی خدمت میں لگا دیتے اور اپنی ذات پر گھر واہل و عیال پر سادگی اور میانہ روی اپنائے رکھتے۔

ہزاروں یتیموں کے والد‘ بے سہاروں کا سہارا ‘ اپنی سماجی خدمات میں بے مثال عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر 88 سال کی عمرمیں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں گزشتہ سال مارچ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اُن کے نام کایادگاری سکہ جاری کیا تھا۔

فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انیس توپوں کی سلامی دی‘ ان کی میت کو گن کیرج وہیکلکے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا۔

ملکی تاریخ میں اس سے پہلے صرف تین شخصیات کی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی، قومی پرچم میں لپٹے جسد خاکی کو پاک بحریہ کے سیکیورٹی حصارمیں گن کیرج وہیکل پرمیٹھا درسے نیشنل اسٹیڈیم پہنچایا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں