The news is by your side.

Advertisement

ایک کتاب، ایک قلم اورایک استاد مل کر دنیا کو بدل سکتے ہیں

’’ہمارا علاقہ بسا اوقات بمباری کی زد میں ہوتا جس کے باعث ہم گھروں سے باہر نہیں نکلتے اور جب بڑوں کے ساتھ مارکیٹ جاتے تو مسلح افراد اور مسمار عمارتیں‘‘ ۔ یہ ان الفاظ کا ترجمہ ہے جو نو سالہ سلمان نے جنوبی وزیرستان کے علاقہ شکئی میں ایک سال قبل تعمیر ہونے والے آرمی پبلک اسکول میں ہمسے بات چیت کرتے ہوئے کہیں۔

army-post-2

شکئی جنوبی وزیرستان کے محسود قبائیل کا علاقہ ہے اور یہاں ہم موجود تھے آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے کے توسط سے۔ سلمان چار سال کا تھا جب 2009میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوگیا تھا۔ جنوبی وزیرستان قبائلی علاقوں میں پہلا علاقہ تھا جہاں باضابطہ کالعدم تحریک طالبان نے اپنی سرگرمیاں شروع کی تھی اور یہی طالبان رہنما مولوی نیک محمد وزیر کے ساتھ ایک امن معاہدہ ہوا تھا لکین 2004میں ڈروں حملے کے نتیجے میں نیک محمد کی ہلاکت کے بعد جب بیت اللہ محسود طالبان کی کی کمان سنبھالی تو محسود ایریا شورش کی زد میں آگیا اور یہاں دہشت گردی کے مختلف واقعات دیکھنے کو ملے اور آخر کار پاک فوج کو یہاں 2009میں آپریشن راہ نجات شروع کرنا پڑا جس کے باعث سلماں کے خاندان کو دیگر افراد کے ساتھ علاقہ خالی کرنا پڑا اور اپریشن کے آختتام پر 2014-15میں ان افراد کی واپسی کا عمل شروع ہوا۔

سلمان جب واپس ایا تو اس کا علاقہ ویران تھا اور ہر طرف تباہی کے آثار نمایاں تھا لکین پھر یہاں ترقیاتی کاموں کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور جنوبی وزیرستان کی چار تحصیلوں سراروغہ، سرواکئی، تیارزہ اور لدھا میں سکول، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صحت ، مارکیٹس اور تحصیل عمارتوں پر مشتمل 285سکیمیں تین ارب اسی کڑور روپے کی لاگت سے مکمل ہورہے ہیں۔

اس علاقے میں شورش سے قبل جدید تعلیمی اداروں کی کمی تھی لکین اب یہاں لڑکے اور لڑکیوں کے آرمی پبلک سکول، ڈگری کالجز اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیوٹ بن چکے ہیں۔ سلمان کو بھی آرمی پبلک سکول میں داخلہ مل چکا اور یہاں اس نے پینٹ شرٹ پہن کر تعلیم شروع کردی ہے، اس کا کہنا ہے کہ علاقہ پہلے سے بہت بہتر ہوچکاہے یہاں پہلے ایسے سکول موجود نہیں تھے۔

سلمان نے دورانِ گفتگو اس عزم کا اظہار کیا کہ میں بڑا ہوکرایف سولہ کا پائلٹ بنوں گا۔

army-post-3

سلمان کے ساتھ کھڑے فرید اللہ جو یہاں استاد کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں انہوں نے مداخلت کرتے ہوئے بتایا ہمارے سکول میں محسود،شکئی اور طیارزہ کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں،یہاں میٹرک تک تعلیم دی جاتی ہے ،ہم نے یہ سکول ایک خیمے میں شروع کیا تھا شروع میں بہت مشکلات تھیں پانچ ماہ تک بچوں کو خیمے میں پڑھاتے رہے ہیں بعد میں ایک نئی بلڈنگ بنا کردے دی گئی۔ ان کہنا تھا کہ بچے سکول آنے میں اور پڑھنے میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ ایک کتاب، ایک قلم اورایک استاد مل کر دنیا کو بدل سکتے ہیں ۔

army-post-4

انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے سکول میں طلباء کی تعداد تین سو ہے جو بڑھ رہی ہے۔ ابھی ہم سکول کی عمارت میں سہولیات کا جائزہ لے رہے تھے تو بتایا گیا کہ ساتھ لڑکیوں کا سکول ہے اور جب ہم وہاں پہنچے تو ہماری ملاقات ملائکہ وزیر سے ہوئی جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اسلام اباد کے اعلیٰ تعلیمی ادارے میں بحیثیت ٹیچر تعینات تھی لیکن اپنے علاقے میں بچیوں کو پڑھانے کا شوق انہیں یہاں کھینچ لیا ۔ ان کا کہنا تھا ’’آرمی کے ساتھ کام کرنا فخر کی بات ہے،وزیرستان میں خواتین کی تعلیم میں پہلے جو مشکلات پیش آئی ہیں ہم نہیں چاہتے کہ اب ان بچوں کو بھی وہی مشکلات پیش آئیں، تعلیم نسواں کے لئے پاک فوج نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے ہمیں شروع میں بہت زیادہ مشکلات تھیں گھر گھر جا کر والدین کو راضی کرنا پڑا کہ بچیوں کو تعلیم دلوائیں لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور والدین خود اپنی بچیوں کا سکول چھوڑنے اور لینے آتے ہیں‘‘۔

army-post-1

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں