The news is by your side.

Advertisement

معزّز اور رئیسِ شہر ایڈورڈ کولسٹن جسے صدیوں بعد رسوائی کا سامنا کرنا پڑا

ایڈورڈ کولسٹن کی شخصیت کا شاید بُت اسی روز ٹوٹ گیا تھا جب برطانیہ میں اس کی سواںح عمری شایع ہوئی تھی۔

مصنّف نے تاریخ کے اس کردار کی زندگی، ذریعۂ معاش اور اس کے ایک ‘غیر انسانی فعل’ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کولسٹن کی اصل تصویر پیش کرنے کے لیے کچھ باتوں کا پس منظر بھی ضرور جاننا چاہیے، جس کے بعد کولسٹن کے لیے مقامی لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اس کی شخصیت متنازع ہوگئی۔

ایڈورڈ کولسٹن کون تھا؟
(Bristol) برطانیہ کا ایک رہائشی علاقہ ہے جس کی مجموعی آبادی آج چار لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ کولسٹن 1636ء میں برسٹل میں پیدا ہوا اور زندگی کی 84 بہاریں‌ دیکھنے کے بعد 1721ء میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔

اس کا تعلق ایک مال دار تجارت پیشہ خاندان سے تھا۔ وہ بھی کاروبار کی طرف مائل ہوا اور قسمت کی یاوری سے خود کو جلد مستحکم کرلیا۔ اس نے کپڑا اسپین، پرتگال، اٹلی اور افریقا بھیجنا شروع کیا اور وہاں سے مختلف مصنوعات منگوا کر برطانیہ میں‌ فروخت کرنے لگا۔ اسی دوران وہ “رائل افریقی کمپنی” کے لیے خدمات انجام دینے لگا جو دراصل مغربی افریقا سے سیاہ فاموں کو امریکا لاکر ان کی تجارت کرتی تھی۔

یہ کمپنی عورتوں اور بچّوں سمیت سیاہ فام افراد کو کیریبین کے جزائر میں سفید فام کاروباری شخصیات کو بیچ کر ‘دام کھرے’ کر لیتی۔ اس زمانے میں‌ آج کے مہذّب اور ترقّی یافتہ ممالک میں غلام رکھنا اور ان کی خریدوفروخت معیوب تھی اور نہ ہی اسے غیرانسانی فعل تصوّر کیا جاتا تھا۔ کولسٹن نے بھی انسانوں کی اس خرید و فروخت میں خوب دولت کمائی۔

سترہویں صدی عیسوی میں کولسٹن نے افریقا سے سیاہ فام عورتوں اور بچّوں سمیت کئی انسانوں کو ان کے گھر بار اور اپنوں سے دور کرکے انھیں‌ جبری مشقّت اور اپنے آقاؤں کا ظلم و ستم سہنے پر مجبور کردیا۔

کولسٹن کو یاد رکھنے کی کیا وجہ تھی؟
اس رئیسِ شہر نے اپنی کمائی کا بڑا حصّہ فلاح و بہبود کے کام پر لگایا اور برسٹل شہر کے علاوہ لندن میں اسکول اور اسپتال بنوائے۔ کہتے ہیں کہ اس نے بے گھر افراد کو چھت فراہم کی اور غریبوں‌ کی مدد کی۔

اس کی انہی خدمات کو دیکھتے ہوئے 1895ء میں کولسٹن کی یادگار کے طور پر برسٹل میں‌ اس کا 18 فٹ لمبا مجسمہ نصب کیا گیا تھا جب کہ شہر میں آج بھی اس سے کئی سڑکیں اور عمارتیں منسوب ہیں اور چھوٹے بڑے مجسمے بھی شاہ راہوں‌ اور مختلف عمارتوں کے باہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ کولسٹن اپنی دولت اور اثر رسوخ کے سبب رکنِ پارلیمان بھی رہا اور اسی لیے وہ ایک معزّر اور قابلِ احترام شخص تھا۔

کولسٹن کی شخصیت متنازع کیوں؟
کئی دہائیوں تک برسٹل کے باسی اسے غریب پرور، رحم دل اور اپنا محسن سمجھتے رہے، لیکن اس امیر تاجر کی اوّلین سوانح عمری نے انھیں خاصا بددل اور متنفر کردیا۔ اسے انسان دوست نہیں‌ بلکہ ظالم کہا جانے لگا۔

1990ء میں یہ کہا جانے لگا کہ انسانوں‌ کی خرید و فروخت میں‌ ملوّث کولسٹن قابلِ احترام نہیں‌ ہے اور شہر میں‌ موجود اس کی یادگاروں کو ہٹانا ہوگا جب کہ درس گاہوں اور دیگر عمارتوں کو اس سے منسوب نہ رکھا جائے۔

عام لوگ ہی نہیں برطانیہ کی سنجیدہ اور اہم شخصیات بھی اسے بے شمار انسانوں کا خون بہانے اور ان پر ظلم کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو تاریخ کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہو گا تاکہ ہم نسل پرستی کا خاتمہ کر سکیں گے جو باعثِ شرم ہے۔

کولسٹن سے متعلق مختلف مطالبات کرتے ہوئے احتجاجی روش اپنانے کا سلسلہ مختلف برسوں میں جاری رہا ہے، لیکن 2020ء میں‌ ایڈورڈ کولسٹن کا پیتل کا تاریخی مجسمہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران رسیوں سے باندھ کر شہر کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور بعد میں اس مجسمے کو برسٹل کی بندرگاہ پر پانی میں غرق کردیا گیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ نسل پرستی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے جس کے لیے ایسے گھناؤنے کاروبار میں ملوث شخصیات کو معاشرے میں عزّت اور احترام دینے کے بجائے ان کا اصل چہرہ سامنے لانے کی بھی ضرورت ہے۔

یہ سب اچانک کیسے ہوا؟
یہ احتجاجی مظاہرہ دراصل سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت اور نسلی امتیاز کے خلاف شروع ہوا تھا جس کے دوران مظاہرین نے ایڈورڈ کولسٹن سے اپنی نفرت کا اظہار اس طرح‌ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں