The news is by your side.

Advertisement

مصر میں ملنے والے 3 ہزار سال پرانے تابوت کی حقیقت سامنے آگئی؟

قاہرہ: مصر میں ملنے والے 3 ہزار سال پرانے تابوت جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مصر ی آثار قدیمہ نے چند روز قبل دریائے نیل کے کنارے واقع شہر اقصر کے قریب الاساسیف نامی علاقے سے 3 ہزار سال پرانے تابوت اصل حالت میں دریافت کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر ی حکومت نے گرتی سیاحت کو اٹھانے کے لیے جعل سازی کی ہے۔

تین ہزار سال قدیم تابوت ملنے کی خبر وائرل ہوئی تو سیاحتی مقام پر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تھا، سیاح قدیم ترین تابوتوں کو کیمرے میں محفوظ کررہے تھے۔

مصر کے ماہرین کا کہنا تھا کہ مرد، خواتین اور بچوں کی ان باقیات کا تعلق مذہبی رہنماؤں کے اعلیٰ خاندان سے ہے، اس صدی کی یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی دریافت ہے۔

مزید پڑھیں: مصر میں تین ہزار سال پرانے تابوت دریافت

وزیر نوادرات خالد ال این کا کہنا تھا کہ یہ انیس ویں صدی کے آخر سے اب تک کا پہلا بڑا انسانی تابوتوں کا ذخیرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب تابوت غیرمعمولی طور پر اچھی طرح سے رنگین اور سربمہر ہیں، انہیں عظیم الشان مصری میوزیم منتقل کیا جائے گا جو 2020 کے آخر میں کھل جائے گا، یہ میوزیم سیاحوں کے لیے نئی حیرت کا باعث ہوگا۔

مصر کے ماہر آثار قدیمہ کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے علم کو آخرت کے اعتقاد کے بارے میں جاننے کے لیے مزید تقویت بخشے گا۔

یورپین ماہرین کا کہنا ہے کہ مصر سے ملنے والے ماہر آثار قدیمہ کو الجھن میں ڈال دیا ہے اور قوی امکان ہے کہ یہ جعلی ہیں۔

کوراسکیوچز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ معزز اور اعلیٰ مرتبہ مصریوں کے زیادہ خوبصورت اور پیچیدہ ہائروگلیف کو نقل کرنے کی سستی کوشش کی گئی ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں