The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں گینگ کے ہاتھوں تشدد سے زخمی مسلمان طالبہ دم توڑگئی

لندن: برطانیہ میں خواتین گینگ کے سرعام تشدد سے شدید زخمی ہونے والی مسلمان طالبہ مریم مصطفیٰ جان کی بازی ہار گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے شہر ناٹنگھم میں میں خواتین کے ایک گینگ نے دن دیہاڑے مسلم طالبہ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق مریم مصطفیٰ کوشاپنگ سینٹرکے باہرگینگ نے زدوکوب کیا جبکہ موقع پرموجودبس ڈرائیور نے مریم مصطفیٰ کوگینگ سے بچانےکی کوشش کی۔

حملے کے بعد زخمی طالبہ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 3 ہفتے تک کوما میں رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گئی، جاں بحق طالبہ مریم مصطفیٰ کا داخلہ لندن کی یونیورسٹی میں ہوچکا تھا۔

مریم مصطفیٰ کی والدہ نے برطانوی حکام پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے قبل گینگ نے میری بیٹی کودھمکی دی تھی جبکہ برطانوی پولیس نے دھمکی ملنے پرکوئی کارروائی نہیں کی۔

دوسری جانب برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ طالبہ پرحملہ نفرت انگیزمہم کا حصہ ہو تاہم اس واقعے کی مکمل تفتیش کررہے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔


برطانیہ میں مسلمانوں‌ کے خلاف نفرت انگیز خط کی تقسیم


خیال رہے کہ تین روز قبل برطانیہ میں تین اپریل کو مسلمانوں کو سزا دینے کا دن کے خط تقسیم کیے گئے تھے جس میں س میں تین اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کو کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 12 مارچ کو پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ محمد یاسین کو بھی ایک مشکوک پارسل موصول ہوا تھا، جس کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا تاہم اس پارسل سے کوئی نقصان دہ چیز برآمد نہیں ہوئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں