The news is by your side.

Advertisement

کشمیریوں کو عید الاضحیٰ منانے سے روک دیا گیا، دوسرے روز بھی گھروں میں قید

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی بربریت جاری ہے، مظلوم کشمیریوں کو عید الاضحیٰ منانے سے بھی روک دیا گیا، دوسرے روز بھی نہتے کشمیری گھروں میں قید رہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی میں مودی سرکار نے نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے، مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن کو ایک سال ہونے کو ہے، کشمیری ایک اور عید کڑے پہرے میں منانے پر مجبور ہوئے، آج دوسرے روز بھی وادی کے باشندے گھروں میں قید رہے۔

عید کے موقع پر بھی وادی مکمل طور پر بند رہی، مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی کرفیو کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے، یورپ میں کشمیر کونسل نے مقبوضہ وادی میں نماز عید کے اجتماعات پر پابندی کی مذمت کی، امریکی سیاست دان جمال بومین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا۔

واضح رہے کہ بھارت کے 5 اگست کے غیر آئینی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی فوجی محاصرے کو ایک سال مکمل ہونے کے قریب ہے، گزشتہ روز مقبوضہ وادی میں نماز عید پر پابندی تھی، قابض بھارت نے سری نگر کی مساجد کھولنے نہ دیں، سفاک فوجی اہل کار مساجد پر پہرہ دے دیتے رہے۔

بھارتی سیاست دان نے بھی جموں و کشمیر کو بڑی جیل قرار دے دیا

ظالمانہ لاک ڈاؤن کے سبب سب کچھ بند ہے، مریضوں کو اسپتالوں تک رسائی نہیں مل رہی، کشمیری شدید مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں، اس صورت حال پر امریکی سیاست دان جمال بومین نے بھی شدید تشویش کا اظہار کر دیا، انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ ناقابل قبول ہے، کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

کشمیر کونسل یورپی یونین نے مقبوضہ کشمیر میں نماز عید کے اجتماعات پر پابندی کی مذمت کی، کونسل کے رہنما علی رضا سید نے کہا کہ مذہبی فرائض سے روکنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر کے بھارت نے وادی میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں، پاکستان کی جانب سے ایک سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو یوم استحصال کشمیر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں