The news is by your side.

سعودی عرب: کرائے پر دکان یا مکان لینے کے لیے ضابطہ کار جاری

ریاض: سعودی عرب میں کرائے پر مکان یا دکان لینے اور دینے کے حوالے سے ضابطہ کار جاری کردیا گیا ہے جس کی پابندی لازمی ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق ایجار سسٹم میں غیر رجسٹرڈ کرایہ معاہدوں کے حوالے سے قانونی مؤقف کے سلسلے میں وزیر انصاف ولید الصمعانی نے وزارت کے تمام متعلقہ اداروں کے نام عدالتی ہدایت جاری کر دی۔

سعودی حکومت مکانات اور تجارتی مراکز و دکانوں کو کرائے پر اٹھانے اور کرائے پر لینے والوں پر یہ پابندی عائد کیے ہوئے ہے کہ وہ ایجار نیٹ ورک کے ذریعے کرائے کے معاہدوں کا اندراج کروائیں۔

وزیر انصاف نے ہدایت دی ہے کہ ایجار سسٹم میں غیر رجسٹرڈ کرائے کے معاہدوں سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ کی جائے، ایگزیکٹو قانون کی دفعہ 9 کے مطابق کرائے کے معاہدے کے مندرجات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایگزیکٹو کورٹ کا لائحہ عمل اس پر لاگو نہیں ہوگا۔

وزیر انصاف نے ایجار نیٹ پر غیر رجسٹرڈ کرائے کے معاہدوں کو معتبر بنانے کے لیے ضروری شرائط و ضوابط جاری کردی ہیں۔

اس حوالے سے یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ کرائے کے معاہدے کا نیٹ ورک پر اندراج ہو، معاہدے پر کرایہ دار اور مالک کے دستخط ہوں یا معاہدے پر کسی ایک کے دستخط ہوں یا نیٹ ورک سے مہیا وسائل کے ذریعے تیار فارم پر دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک کے دستخط ہوں۔

ایک شرط یہ بھی ہے کہ کرائے نامے میں ضروری معلومات تحریر ہوں مثلاً کرائے پر دینے والے مکان یا دکان کے مالک اور کرایہ دار کا نام، قومی شناختی کارڈ نمبر یا کرایہ دار اور کرائے پر دینے والے کے نمائندے کا قومی شناختی کارڈ نمبر اور نام تحریر ہو۔

کرائے کی مدت متعین ہو، کرایہ کتنا ہے یہ واضح ہو، ادائیگی ماہانہ ہوگی یا سہ ماہی یا ششماہی یا سالانہ اس حوالے سے وضاحت ہو۔ کرائے والی دکان یا مکان کی تفصیلات ہوں۔ علاوہ ازیں کرائے کے معاہدوں کے اندراج کے لیے نیٹ ورک کی شرائط و ضوابط پوری ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں