تازہ ترین

کوئٹہ: تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے گئے 9 مسافر قتل

کوئٹہ:نوشکی کے قریب تفتان جانیوالی بس سے اغوا کیے...

بہاولنگر واقعے کی مشترکہ تحقیقات ہوں گی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بہاولنگر...

عیدالفطر پر وفاقی حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

اسلام آباد: عیدالفطر کے موقع پر وفاقی حکومت نے...

ایشیائی بینک نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں آئندہ مالی سال...

سنگدل شخص نے بیوی اور 7 بچوں کو قتل کر دیا

پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں اجتماعی قتل کا...

اعجاز درّانی:‌ پاکستانی فلمی صنعت کے معروف اداکار اور کام یاب فلم ساز

اعجاز درانی فلم انڈسٹری کے ان فن کاروں میں سے ایک تھے جو شہرت اور دولت کے پیچھے نہیں بھاگے اور ہمیشہ اپنے کام کو اہمیت دی۔ وہ خوش اخلاق اور ملنسار مشہور تھے۔ اعجاز درانی 1960 اور 1970 کی دہائی کے معروف اداکار تھے اور بعد میں بطور فلم ساز بھی کام کیا۔ یکم مارچ 2021ء کو اعجاز درانی انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔

اعجاز درانی نے ڈیڑھ سو کے قریب اردو اور پنجابی فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کے علاوہ ہدایت کار کی حیثیت سے فلم انڈسٹری کو کئی کام یاب فلمیں بھی دیں جن میں پنجابی زبان کی سپر ہٹ فلم ‘ہیر رانجھا’ بھی شامل ہے۔

اداکار اور فلم ساز اعجاز درانی 18 اپریل 1935 کو جلال پور جٹاں کے قریب ایک ضلع کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جہلم سے بی اے پاس کیا اور اس وقت متحدہ ہندوستان کے ایک فلمی مرکز کے طور پر پہچان رکھنے والے شہر لاہور آ گئے۔ یہاں 21 سالہ اعجاز نے فلم ‘حمیدہ’ سے اداکاری کا سفر شروع کیا۔ اعجاز درانی وجیہ صورت اور جاذبِ نظر شخصیت کے مالک تھے اور جلد ہی وہ فلمی دنیا کے دیگر مرد اداکاروں میں نمایاں‌ ہوگئے۔ ان کی اداکاری اور شخصیت نے انھیں سنیما بینوں میں مقبول بنایا۔

1960 کی دہائی میں اعجاز درانی کی کئی فلمیں کام یاب ہوئیں جن میں ‘شہید’، ‘بدنام’، ‘لاکھوں میں ایک’، ‘بہن بھائی’ اور ‘زرقا’ کے نام شامل ہیں۔ ان فلموں میں اعجاز کی اداکاری کو سب نے پسند کیا۔ اداکارہ اعجاز نے اپنے وقت کی مقبول ہیروئن اور گلوکارہ نورجہاں سے شادی کی تھی لیکن بعد میں‌ نور جہاں‌ نے ان سے طلاق لے لی تھی۔

‘لاکھوں میں ایک’ ، ‘بدنام’ جیسی فلموں کے بعد اعجاز کو 70 کی دہائی میں بھی کام یابی ملتی رہی۔ ان کی پنجابی فلم ‘انورہ’ اور پھر ‘ہیر رانجھا’ نے انھیں شہرت کی بلندیوں‌ پر پہنچا دیا۔ اعجاز نے رانجھا کا کردار نبھا کر سنیما بینوں کے دل جیت لیے۔ یہ وہ فلم تھی جس کا خوب شہرہ ہوا اور خوب صورت نین نقش والی اداکارہ فردوس کے ساتھ اعجاز کی جوڑی بہت پسند کی گئی۔ اعجاز نے اپنے وقت کے مقبول اور باکمال فن کاروں کے ساتھ کام کیا اور منفی کردار بھی بخوبی نبھائے۔ہیر رانجھا کے بعد اعجاز کی ایک کام یاب فلم ‘دوستی’ تھی جس کا گانا ‘چٹھی زرا سیاں جی کے نام لکھ دے’ آج بھی سماعتوں‌ میں‌ رس گھول رہا ہے اور لوگ اسے سننا پسند کرتے ہیں۔ ملکۂ ترنم میڈم نور جہاں سے علیحدگی کے بعد اعجاز نے فلم ‘دوستی’ کے ہدایت کار کی بیٹی سے شادی کر لی تھی۔

اعجاز درانی لاہور اور راولپنڈی میں سنگیت سنیما کے مالک بھی تھے۔ انھوں نے بطور فلم ساز پنجابی فلم ‘شعلے’ اور ‘مولا بخش’ بھی فلمی صنعت کو دیں جو باکس آفس پر نہایت کام یاب رہیں۔بطور اداکارہ اعجاز درانی کی آخری فلم ‘جھومر چور’ تھی جو 1986 میں ریلیز ہوئی۔

Comments

- Advertisement -