الیکشن 2018: کون ووٹ کاسٹ کرسکتا ہے اورکون نہیں -
The news is by your side.

Advertisement

الیکشن 2018: کون ووٹ کاسٹ کرسکتا ہے اورکون نہیں

پاکستان میں الیکشن 2018 کا طبل بج چکا ہے اور جہاں سیاسی جماعتیں اپنی مکمل تیاری کے ساتھ ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے میدان میں ہیں ، وہیں بحیثیت پاکستانی شہری ووٹر کے بھی کچھ فرائض ہیں۔

ووٹ ایک مقدس قومی فریضہ ہے جسے ادا کرنا ہر اس پاکستانی پر قانونی طور پر لازم ہے جو ووٹر کی شرائط پر پورا اترتا ہے ، ووٹ بنا کسی سیاسی ، سماجی اور مذہبی وابستگی کے ایسے لوگوں کو دینا چاہیے جو کہ ووٹ کے صحیح حقدار ہوں۔

کون ’ووٹ‘ دینے کا اہل ہے؟


  • اٹھارہ سال اور اسے زائد عمر کا ہر پاکستانی شہری اپنا ووٹ کاسٹ کر سکتا ہے۔
  • بالغ رائے دہی مرد و خواتین کا یکساں حق ہے اور خواتین برابری کی بنیاد پر اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتی ہیں۔
  • ووٹر کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے جو کہ ووٹ کاسٹ کرتے وقت اس کی شناخت کا ذریعہ بنے گا۔
  • ووٹر کے نام کا اندراج ووٹر لسٹ میں ہونا ضروری ہے، اگر ووٹر لسٹ میں نام کا اندراج نہیں ہے تو ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا۔ نام کا اندراج چیک کرنا ووٹر کی آئینی ذمہ داری ہے۔ ووٹر اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر بھیج کر اپنا پولنگ اسٹیشن معلوم کرسکتا ہے۔
  • ووٹ ڈالنے والا متعلقہ حلقے کارہائشی ہونا لازمی ہے، کسی اور حلقے کا رہائشی غیر متعلقہ حلقے میں اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا ۔ شناختی کارڈ جس حلقے سے بنوایا گیا ہے اگر ووٹر وہ حلقہ چھوڑ چکا ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے موجودہ پتے کے حساب سے اپنا حلقہ الیکشن کمیشن میں اپ ڈیٹ کروائے۔
  • ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ووٹر کا ذہنی طور پر تندرست ہونا بے حد ضروری ہے ، لازمی ہے کہ کسی مجاز عدالت نےووٹر کو ذہنی طور پر بیمار نہ قرار دیا ہو۔
  • ووٹر کا ازخود پولنگ اسٹیشن جانا ضروری ہے، وہ کسی بھی شخص کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیےنامزد نہیں کرسکتا اور قانونی طور پر کوئی بھی شخص کسی اور ووٹر کی جگہ ووٹ نہیں کاسٹ کرسکتا۔
  • پاکستان کے تمام رجسٹرڈ ووٹر 25 جولائی کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے پولنگ اسٹیشن کے بارے میں پہلے سے معلومات کرکے رکھیں اور الیکشن ڈے پر ووٹ ضرور ڈالیں ۔ ووٹ کے فریضے کی ادائیگی میں ہی آپ کی اور آپ کی آئندہ نسلوں کی بقا ہے۔

    خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں