spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

الیکشن 2024 پاکستان : نیا اور جدید ترین نظام ‘ای ایم ایس’ ، آر ٹی ایس سے کتنا مختلف ہے؟

اسلام آباد : نیشنل کوآرڈینیٹر فافن رشید چوہدری نے ای ایم ایس اور آر ٹی ایس سسٹم کا فرق بتاتے ہوئے کہا کہ آرٹی ایس نتائج الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ کو پہنچاتا تھا جبکہ الیکشن مینجمنٹ سسٹم آراو کے دفترتک الیکشن کے نتائج پہنچائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کوآرڈینیٹر فافن رشید چوہدری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی ایس اورای ایم ایس میں بنیادی فرق ہے ، آرٹی ایس نتائج الیکش کمیشن سیکرٹریٹ کو پہنچاتا تھا اور الیکشن مینجمنٹ سسٹم آراو کے دفترتک الیکشن کے نتائج پہنچائے گا۔

رشید چوہدری کا کہنا تھا کہ پریذائیڈنگ افسرفارم 45 کی تصویر پہلے ای ایم ایس کے ذریعے آر او کو بھیجے گا، فارم 45 کی کاربن کاپی پولنگ ایجنٹس اور مبصرین کوبھی مل جائے گی، فارم 45 میں چھوٹی موٹی غلطیاں درست کرکے امیدوراوں کے سامنے تصویر کھینچی جائے گی۔

نیشنل کوآرڈینیٹر فافن نے کہا کہ انٹرنیٹ موجود نہ ہونے پر بھی ای ایم ایس پر انٹری ہوسکے گی اور آر او کے پاس ڈیٹا انٹری آپریٹر ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلی بار الیکشن قوانین میں لکھا گیا ہے آراو رات 2 بجے تک نتائج جاری کردیں گے، کسی پولنگ اسٹیشن سے نتیجہ نہیں پہنچتا تو آراو وجوہات ریکارڈ کریں گے، آر اوز ہر حال میں صبح 10 بجے تک ہر حلقے کا نتیجہ جاری کریں گے۔

رشید چوہدری نے بتایا کہ رات 2 بجے تک نتیجہ نہیں آتا تو مناسب وجہ پیش نہ کرنے پر آر او کیخلاف کارروائی ہوگی۔

خیال رہے اس بار الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابقہ تلخ تجربے سے بچنے کے لیے ایک جدید ترین سسٹم تیارکیا ہے، جو بغیرکنیکٹیویٹی یعنی انٹرنیٹ کنکشن نہ ہونے کے باوجود بھی آپریٹ کیا جاسکے گا۔

الیکشن مینجمنٹ سسٹم نتائج جمع کرنے اور انہیں مرتب کرنے کے لیےاستعمال کیا جائے گا، ملک بھر میں سسٹم کو آپریٹ کرنے کے لئے قومی اسمبلی کے ہر حلقے کےلئے چارآپریٹر جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں تین آپریٹر موجود ہوں گے۔

Comments

- Advertisement -