The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں الیکٹرک کار کی تیاری، کیا ماحول دوست کار عوام دوست بھی ہوگی؟

الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری کے بعد پاکستان میں الیکٹرک کار اور موبائل فون تیار کیے جائیں گے لیکن کیا ماحول دوست گاڑی عوام دوست بھی ہوگی؟

پیٹرول کے بجائے بجلی سے چلنے والی ماحول دوست گاڑیوں کی مقبولیت دنیا بھر کیساتھ کیساتھ پاکستان میں بھی بڑھ رہی ہے۔

اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی (پی ٹی آئی حکومت) نے پاکستان میں بھی الیکٹرک وہیکل تیار کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی اور ماحول بھی ہوگا۔

ماحول دوست گاڑیوں کا انحصال بیٹری پر ہوتا ہے جو بجلی سے چارج ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں بجلی انتہائی مہنگی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی بہت زیادہ ہے پھر کس طرح ملک میں الیکٹریکل وہیکل باآسانی چل سکتی ہیں۔

اس حوالے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل ہم بھارت سے پیچھے تھے الیکٹریکل وہیکل کے معاملے میں لیکن اب ہم آگے نکل چکے ہیں اور اگلے 10 سے 15 برس کے دوران پاکستان سے 20 سے 30 فیصد ٹریفک الیکٹرک پر چلی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بہتر ہورہی ہے اور ایسی بیٹریز بن چکی ہیں جو ایک دفعہ چارج کرنے کے بعد پانچ سو کلومیٹر چل سکتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس سال کے آخر تک یا اگلے سال ہم ایسی بیٹریز دیکھیں گے جو بغیر چارجنگ کے 1000 کلومیٹر تک کارآمد ہوں گی۔

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ بیٹری کی قیمتیں کم ہورہی ہے، اسی وجہ سے الیکٹریکل کاروں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ملک میں بجلی کا بحران نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس ضرورت سے چالیس فیصد زیادہ بجلی موجود ہے لیکن تقسیم کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہم بجلی پہنچا نہیں پا رہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک کار کی چارجنگ پیٹرول اور گیس سے بہت زیادہ سستی پڑتی ہے اور مستقبل میں مزید سستی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں