The news is by your side.

Advertisement

مافیا اور مخصوص لابی کا دباؤ مسترد، ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے پلانٹس لگنا شروع ہوگئے

70 فیصد کم خرچ میں چلنے والی گاڑیوں سے تیل کی امپورٹ پر انحصار کم ہو جائے گا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مافیا اور مخصوص لابنگ کا دباؤ مسترد کرتے ہوئے الیکٹرک وہیکل پالیسی پر تیزی سے عملدر آمد کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے پلانٹس لگنا شروع ہو گئے جبکہ بیٹریز کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز 21 ویں صدی کی ٹیکنالوجی یے، پاکستان موجودہ حکومت کے آنے سے قبل اس شعبے میں بہت پیچھے تھا۔

ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ معاملہ کابینہ سے منظوری کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی میں گیا تو لابنگ شروع ہوئی، ایک لابی ایسی ہے جو نہیں چاہتی یہاں 21 ویں صدی کی سواری آئے۔ مخصوص عناصر نے رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ تاخیر ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز آگئیں تو 70 فیصد کم خرچ میں گاڑی چلے گی، پاکستان کا تیل کی امپورٹ پر انحصار بھی کم ہو سکے گا۔ ان گاڑیوں کے لیے اضافی بجلی کی پیداوار کو استعمال میں لایا جائے گا۔

ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل، رکشا اور بسوں کے لیے پالیسی منظور ہو چکی ہے، پاکستان میں پلانٹس لگنا شروع ہو گئے ہیں، بیٹریز کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے بیٹریز کی تیاری کا کام جلد مکمل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ ملک کی پہلی الیکٹرک وہیکل پالیسی کچھ عرصہ قبل منظور کی گئی تھی، پالیسی کے تحت موٹر سائیکل اور گاڑیوں کو بیٹریز پر منتقل کیا جا سکے گا۔ پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز مینو فیکچرر یونٹس بھی قائم ہوں گے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک وہیکل مینو فیکچرنگ یونٹس لگانے والوں پر صرف 1 فیصد ڈیوٹی ہوگی، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مستقبل میں بیٹریز کے استعمال پر کام کر رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں