The news is by your side.

Advertisement

‘200 سے کم یونٹ استعمال کرنے والوں پر اثر نہیں ہوگا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر حماد اظہر نے بجلی ایک بار پھر مہنگی کیے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے والوں پر اس کا اثر نہیں ہوگا، جب کہ صنعتوں پر پیک آورز بھی نہیں ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی جانب ایک ہفتے بعد ہی دوبارہ بجلی مہنگی کرنے کے فیصلے کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر نے پریس کانفرنس میں اس اقدام کی وجہ بتانے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا 2013 سے 2018 میں بجلی کے مہنگے معاہدے کیے گئے تھے، پی ٹی آئی حکومت نے بجلی کا کوئی بھی مہنگا معاہدہ نہیں کیا، ماضی کے معاہدوں پر بجلی لیں یا نہ لیں، ہم نے ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے، جب کہ ماضی میں لگائے گئے منصوبے بھی ضرورت سے زیادہ کے ہیں، اس لیے حکومت نے اپنے پرانے جنکوز کو بند کر دیا ہے۔

حماد اظہر نے بتایا کہ بجلی کی خرید و فروخت میں ڈیڑھ سے 2 روپے کا فرق آ رہا ہے، آج بھی ہمیں اسی فرق کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑ رہی ہیں، نیپرا سے 1.39 روپے یونٹ بڑھانے کے لیے رجوع کیا ہے، ہم نے گردشی قرضہ بڑھنے کے عمل کو ہم نے روکنا ہے جس کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

ایک ماہ میں تیسری بار بجلی کی قیمت میں اضافہ

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حالیہ بجلی قیمت بڑھانے سے 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے والوں پر اثر نہیں ہوگا، سیزنل پیکیج پر ڈسکاؤنٹ 12.96 روپے یونٹ ہوگی، جب کہ صنعتی یونٹ بھی 12.96 روپے ہی پر یونٹ ہوگا، اور صنعتوں پر پیک آورز بھی نہیں ہوں گے۔

گیس بحران کے حوالے سے انھوں نے کہا پاکستان میں گیس کا بحران نہیں آیا، پوری دنیا میں 500 فی صد تک گیس کی قیمت بڑھی ہے، پاکستان میں 2019 کے بعد گیس کی قیمت نہیں بڑھی تھی۔

درآمدی گیس کے حوالے سے حماد اظہر نے بتایا کہ نومبر اور دسمبر کے لیے 10 کارگو بُک ہو چکے ہیں، مزید ایک کارگو اور بھی چند دن میں بک ہو جائے گا، اس عرصے میں 12 کارگو درکار ہوتی ہیں، ضرورت کے مطابق مزید کارگو بھی بک کرلیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے 28 فی صد لوگ صرف مقامی گیس استعمال کر پا رہے ہیں، گیس کی سپلائی کا 1300 ایم ایم ایف تک نظام ہے، ہم اپنی گیس کو ہی ڈومیسٹک پائپ لائن میں ڈال رہے ہیں، درآمدی گیس پائپ لائن میں ڈالنے سے 40 سے 50 ارب کا نقصان ہوتا ہے، اس لیے اضافی گیس درآمد کر کے پائپ لائن میں نہیں دے سکتے، اس کے لیے قانون بنا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 95 پیسے اضافے کے بعد اس ہفتے پھر بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے، نیا اضافہ 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ ہے، جو سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کی سفارش کی گئی ہے، اوگرا نے پٹرول 5 روپے 90 پیسے، ڈیزل 10 روپے فی لٹر مہنگا کرنے کی سمری بھجوا دی ہے۔

دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی گھی اور کوکنگ آئل مہنگا کر دیا گیا ہے، گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے اضافہ، 10 لیٹر گھی کا کین 2500 روپے سے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں