ٹیسلا و اسپیس ایکس کے بانی اور دنیا کی امیر ترین شخصیات میں شامل ایلون مسک ڈرامائی انداز میں ڈوج سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مستعفی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں قائم کردہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی (ڈوج) کے اہم ترین عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی جلد ہی دوبارہ اپنی کاروباری دنیا میں واپس جارہے ہیں، جس کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی اور واشنگٹن میں بھی حیرانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز مسک کے ’ڈوج‘ کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا عندیہ دیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی کابینہ اور قریبی حلقوں کو بتایا تھا کہ ایلون مسک اپنی سرکاری ذمہ داری سے بری الذمہ ہورہے ہیں۔
ایلون مسک کا گزشتہ روز دیے گئے بیان میں کہنا تھا کہ میں اپنی ذمہ داریاں تقریباً پوری کرچکا ہوں، امریکی حکومت کیلئے 10کھرب ڈالر کٹوتی کی مد میں بچت کرچکا ہوں۔
مسک بطور خصوصی سرکاری ملازم مئی میں عہدے سے سبکدوش ہونے والے تھے لیکن وہ اپنے سخت فیصلوں اور وفاقی حکومت میں کٹوتیوں کی پالیسی کی وجہ سے ایک متنازع شخصیت بن گئے ہیں جو ان کے استعفے کا باعث بنی۔